انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 237

۲۳۷ گھوڑے آگے پیچھے سے آ رہے ہوں فوراً اگلا گھوڑا بھی دوڑ پڑے گا یہ ایک طبعی جذبہ ہے لیکن اس کی زیادتی اور کمی کئی قسم کی بد اخلاقیاں پیدا کر دیتی ہے اور اس کا صحیح استعمال کئی نیک اخلاق پیدا کر دیتا ہے۔مثلاً جب اس ترقی کی خواہش کو انسان نیکیوں میں مقابلہ کے لئے صرف کرتا ہے تو یہ خواہش اس کو بہت کچھ فائدہ پہنچاتی ہے۔طالب علم اسی کے ذریعہ سے علم میں ترقی کرتے ہیں اللہ تعالیٰٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقرة:149) اے مسلمانو! ایک دوسرے سے نیکی میں بڑھنے کی کوشش کرو۔گویا اس طبعی جذبہ کو ایک قید کے ساتھ استعمال کر کے ایک نیک خلق پیدا کر دیا کہ نیک اخلاق میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی خواہش کرنا خود ایک نیک خلق ہے۔مگر یہ جذبہ جب بد طور سے استعمال کیا جائے تو ایک تو اس سے حسد پیدا ہوتا ہے یعنی جب یہ خواہش حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ صرف میں آگے بڑھوں اور کوئی نہ بڑھے اس کو اسلام نے ناپسند کیا ہے قرآن کریم میں دعا سکھائی ہے وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (الفلق:6) میں خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں حاسد کی شرارت سے جب وہ حسد کرے۔اسی طرح ایک نقص اس خواہش کی وجہ سے یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ انسان اس کی وجہ سے لوگوں کی خوبیوں کو عیب سمجھنے لگتا ہے یعنی کبھی تو اس کی یہ خواہش ہو جاتی ہے کہ دوسرے لوگوں کی اچھی چیزیں مجھے مل جائیں تاکہ میں بڑھا رہوں اور کبھی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے کہ میں بڑھیا رہوں وہ دوسروں کے کمالات کو عیب دیکھنے لگتا ہے اور اسے عربی میں احتقار کہتے ہیں۔اس کو بھی اسلام نے ناپسند کیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ (الحجرات:12) اے مومنو! تم میں سے کوئی جماعت دوسری جماعت کو حقیر نہ سمجھے شاید وہ تم سے اچھی ہو نہ عورتیں دوسری عورتوں کو حقیر جانیں شاید وہ ان سے اچھی ہوں۔یہی خواہش جب اور زیادہ بڑھ جاتی ہے تو انسان ظاہر میں دوسرے کو گالیاں دیتا ہے اور اس کی نسب یا حسب میں طعن کرتا ہے۔ان سب امور کو اسلام نے روکا ہے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں لا یرمی رجل رجلا بالفسق ولا یرمیہ بالکفر الا ارتدت علیہ ان لم یکن صاحبہ کذالک یعنی اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی نسبت کوئی اخلاقی