انوارالعلوم (جلد 8) — Page 232
۲۳۲ فرماتے ہیں المؤمن لیس بحقود مومن کینہ توز نہیں ہوتا وہ اپنے دل میں کسی کی نسبت کینہ رکھتا۔ان تمام قیود کے ذریعہ سے اسلام نے نقم کا ایک ہی ظہور جائز رکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص سے اس قدر بدلہ لے لے جس قدر کہ اس نے اس کو نقصان پہنچایا ہے مگر اس کے لئے بھی یہ شرط ہے کہ اگر اس جگہ حکومت ہے تو حکومت کے ذریعہ سے بدلہ لے خود ہی بدلہ نہ لے۔ہاں اگر حکومت اس جگہ پر نہ ہو تو اسی قدر بدلہ لے سکتا ہے لیکن اصلاح اگر عفو سے ہو تو عفو مقدم ہو گا باقی طریقِ انتقام یعنی گالیاں دینا، عیب چینی کرنا، ترک کلام کر دینا، دل میں کینہ رکھنا ان سب کو اسلام نے ناجائز قرار دے دیا کیونکہ ان کے ذریعہ سے گناہ ترقی کرتا ہے اور فساد بڑھتا ہے اور اصلاح جو انتقام کی اصل غرض ہے مفقود ہو جاتی ہے۔دوسرا طبعی تقاضا جو انسان کے اندر پایا جاتا ہے وہ محبت ہے تمام حیوانوں میں بھی اور انسانوں میں بھی ہم اس مادہ کو پاتے ہیں اور اس کے مقابلہ پر ایک طبعی تقاضا نفرت کا ہے۔یہ دونوں طبعی تقاضے ہیں اور اپنے استعمال کے ذریعہ سے اخلاق بنتے ہیں ہم نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تم ہر اک شئے سے محبت کرو اور نہ یہ کہ ہر اک سے نفرت کرو بلکہ ان کو حدود میں مقید رکھنے کے لئے قواعد کی ضرورت ہو گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ محبت فطرتاً اسی سے پیدا ہوتی ہے جو ہمارے لئے کارآمد ہوتی ہے یا ہمارے حواس میں سے کسی حس کو آرام اور لذت پہنچاتی ہے۔اس وجہ سے طبعی طور پر محبت انہی اشیاء سے ہو گی جو اس غرض کو پورا کریں مگر یہ خلق نہ ہو گا کیونکہ اس قسم کی محبت سب جانور بھی کرتے ہیں۔محبت خلق تبھی ہو گی جبکہ ایک تو اس میں مدارج کا لحاظ رکھا جائے یعنی جس سے زیادہ تعلق ہے اس سے زیادہ محبت کی جائے اور جس سے کم ہے اس سے پہلے کی نسبت کم محبت کی جائے۔دوسرے محبت تب خلق ہو گی جب کہ اس میں احسان سابق کا خیال زیادہ مدنظر رکھا جائے بہ نسبت آئندہ کی امید کے کیونکہ سابق احسان کا خیال ایک ذمہ داری ہے اور آئندہ کی امید طمع۔تیسرے یہ کہ صرف قریب کے نفع کو یا لذت کو مدنظر نہ رکھا جائے بلکہ دور کے فائدے یا نقصان کا بھی خیال کیا جائے۔ان تین پابندیوں کے ساتھ محبت ایک خُلق ہے ورنہ نہیں چنانچہ اسلام نے ان تینوں پابندیوں کا ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ