انوارالعلوم (جلد 8) — Page 231
۲۳۱ کو کو ظلم پسند نہیں گویا رأفت جس کا ظاہری نتیجہ عفو ہے اور نقم جس کا ظاہری نتیجہ سزا ہے دونوں کے لئے یہ قید لگا دی کہ جب عفو کا نتیجہ اس شخص کے لئے اچھا ہو جس سے قصور ہو گیا ہے تو اس وقت اس سے درگذر کرناچاہئے اور رأفت کے جذبہ کو اپنا کام کرنے دینا چاہئے اور جب سزا سے فائدہ ہو اور ظالم کی اصلاح ہو تو اس وقت سزا دینی چاہئے اور نقم کے جذبہ کو اپنا کام کرنے دینا چاہئے۔دوسری صورت یہ تھی کہ ظالم طاقتور ہو اور مظلوم اس سے بدلہ نہ لے سکتا ہو یا کسی مصلحت کی وجہ سے بدلہ نہ لینا چاہتا ہو پس وہ زبان سے اس کی بد گوئی اور عیب چینی کر کے اپنا دل ٹھنڈا کرنا چاہے تو اس کی نسبت فرمایا وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات:12) تم کو ایک دوسرے کی عیب چینی کرنی جائز نہیں او رنہ گالیاں دینی جائز ہیں پس گویا عیب چینی اور گالیاں دینی بالکل منع کر دیں اور فرما دیا کہ غصہ کے وقت میں اور بدلہ کے طور پرعیب چینی اور گالیاں بالکل منع ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں منع ہے؟ جو شخص اپنے نقصان کا بدلہ نہیں لے سکتا وہ کیوں عیب چینی کر کے اس شخص سے بدلہ نہ لے اور گالیاں دے کر دل خوش نہ کرے؟ تو اس کا جوب یہ ہے کہ گالیاں اس لئے منع ہیں کہ وہ جھوٹ ہیں اور جھوٹ اسلام پسند نہیں کرتا اور وہ فحش ہیں اور فحش کو اسلام پسند نہیں کرتا۔اورعیب چینی سے اس لئے منع ہے کہ یہ سزا بجائے اصلاح کے فساد کا موجب ہوتی ہے کیونکہ جس کی بدیوں کو علی الاعلان بیان کیا جاتا ہے اس کی شرم اُڑ جاتی ہے اور وہ بے حیائی کا مرتکب ہونے لگتا ہے۔تیسری صورت نقم کی یہ تھی کہ یہ شخص اس سے مقاطعہ کر لیتا ہے اور اس سے کلام ترک کر دیتا ہے اس صورت نقم کو بھی اسلام نے ناپسند کیا ہے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں لا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاث کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بہائی سے تین دن تک کلام ترک کر دے یعنی تین دن کے اندر اس کو چاہئے کہ اس سے کلام شروع کر دے۔چوتھی صورت نقم یہ تھی کہ یہ دل میں کینہ یا بغض رکھے۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ (الأَعراف:44) اور ہم نے مومنوں کے دلوں سے کینہ نکال دیا ہے یعنی مومن کا کام نہیں کہ کسی کی نسبت دل میں کینہ رکھے اس کے متعلق رسول کریم ﷺ