انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 216

۲۱۶ قرآن کریم بعث ما بعد الموت کا قائل ہی نہیں۔یہ دھوکا ویسا ہی ہے جیسے کہ بعض اور لوگوں نے یہ سمجھ چھوڑا ہے کہ جہاں ساعت کا لفظ آئے اس کے معنے ضرور قیامت کے ہوتے ہیں حالانکہ قرائن کے ذریعہ سے بآسانی معلوم ہو سکتا ہے کہ کس جگہ اس سے بعث ما بعد الموت مراد ہے اور کس جگہ نبی کا اپنی غرض میں کامیاب ہو جانا اور ایک زندہ جماعت کے پیدا کرنے میں فلاح کا منہ دیکھنا مراد ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس صفت کا نمونہ بھی نہایت عمدگی اور کامیابی کے ساتھ دکھایا ہے اور اس زبردست معیار پر حضرت مسیحؑ ناصری نے بیان فرمایا تھا خوب کامیابی کے ساتھ آپ پورے اترے ہیں حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں۔"جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے پَر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑئے ہیں۔تم انہیں ان کے پھلوں سے پہچانو گے کیا کانٹوں سے انگور یا اونٹ کٹاروں سے انجیر توڑتے ہیں؟ اسی طرح ہر ایک اچھا درخت اچھے پھل لاتا اور برا درخت برے پھل لاتا ہے۔اچھا درخت برے پھل نہیں لا سکتا۔نہ برا درخت اچھے پھل لا سکتا ہر ایک درخت جو اچھے پھل نہیں لاتا کاٹا ا ورآگ میں ڈالا جاتا ہے۔پس ان کے پھلوں سے تم انہیں پہچانو گے۔" اس معیار کے یہی معنے ہیں کہ ہر اک درخت اپنے مطابق پھل لاتا ہے۔پس نبی وہی ہے جو نبوت کا رنگ علیٰ قدر مراتب اپنے متبعین میں پیدا کر دے اور خدا رسیدہ وہی ہےجو ہر اک کی استعداد فطری کے مطابق اسکو خدا تک پہنچا دے۔اس معیار کے یہ معنے نہیں کہ کسی جماعت میں اخلاص اور قربانی ہو تو سمجھا جائے گا کہ مدعی سچا ہے اور خدا رسیدہ ہے کیونکہ قربانی کے صرف یہی معنے ہوتے ہیں کہ متبعین کو اپنے مقتداء کی زندگی میں کوئی ایسی بات نہیں معلوم ہوئی جس کی وجہ سے وہ اسے جھوٹا خیال کریں۔اب لوگوں کا کسی کو با اخلاق یا راستباز سمجھ لینا صرف دو باتیں ثابت کر سکتا ہے یا تو یہ کہ ان کو ا س کے حالات سے پوری طرح واقفیت نہیں یا اگر وہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کو اس کی زندگی کا ہر شعبہ دیکھنے کا موقع ملا ہے تو پھر صرف اس قدر ثابت ہو گا کہ وہ مقتداء مفتری نہیں ہے بلکہ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ راستباز ہے لیکن ہر شخص جو اپنے آپ کو راستباز سمجھتا ہے راستباز نہیں کہلا سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس شخص کے دماغ میں کچھ نقص ہو اور ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے عقیدہ کی وجہ سے