انوارالعلوم (جلد 8) — Page 209
۲۰۹ آپ کا چھوٹا لڑکا مبارک احمد ایک دفعہ بیمار ہوا اور اس کی بیماری بہت سخت بڑھ گئی اور غش پر غش آنے لگے آخر اس کی حالت موت کی سی ہوگئی اور جو اوپر نگران تھے انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ بالکل مر چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پاس کے کمرے میں دعا میں مشغول تھے کہ کسی نے آواز دی کہ اب دعا بس کر دیں کیونکہ لڑکا فوت ہو گیا ہے۔آپ اٹھ کر وہاں آئے جہاں وہ لڑکا تھا اور آپ نے اس کے جسم پر ہاتھ رکھ کر توجہ کی تو دو تین منٹ میں یہ پھر سانس لینے لگ گیا۔اسی طرح ایک دفعہ خان محمد علی خان صاحب جو نواب صاحب مالیر کوٹلہ کے ماموں ہیں اور ہجرت کر کے قادیان میں ہی آ بسے ہیں ان کے لڑکے میاں عبد الرحیم خان صاحب بیمار ہوئے ان کو ٹائیفائیڈ کی بیماری تھی دو ڈاکٹر اور حضرت خلیفہ اول مولوی نور الدین صاحب جو دیسی معالج تھے۔آخر بیماری کی حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ مولوی صاحب نے بھی اور دوسرے ڈاکٹروں نے بھی کہہ دیا کہ اب اس مریض کی حالت بچنے والی نہیں یہ چند گھنٹے کا مہمان ہے علاج کی اب کچھ ضرورت نہیں۔جب اس امر کی حضرت مسیح موعود کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اسی وقت اس لڑکے کے لئے دعا کی اور الہام ہوا کہ اس لڑکے کی موت آ چکی ہے تب آپ نے عرض کیا کہ اے خدا! اگر دعا کا وقت گذر چکا ہے اور اس لڑکے کی موت آ چکی ہے تو میں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔ا سکے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ (البقرة:256) کون ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور سفارش کرے مگر اس کے حکم اور اس کی اجازت سے؟ آپ فرماتے ہیں کہ اس الہام پر میں نے دعا ترک کر دی مگر معاً دوبارہ الہام ہوا انک انت المجاز ہم تجھ کو شفاعت کی اجازت دیتے ہیں۔اس پر آپ نے شفاعت کی اور اسی وقت باہر آ کر کہہ دیا کہ یہ لڑکا بچ جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰٰ نے میری شفاعت سے اس کو موت سے بچا دیا ہے۔چنانچہ وہ فوراً ہی تندرستی کی طرف مائل ہو گیا اور کچھ دنوں میں اچھا ہو گیا۔عبد الرحیم خان صاحب جن کے متعلق یہ معجزہ ظاہر ہوا خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہیں اور اس وقت انگلستان میں بیرسٹری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔آپ کے والد اور دوسرے گواہوں میں سے بھی اکثر لوگ زندہ موجود ہیں اور سب شہادت دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کی صفت احیاء کا مشاہدہ کیا ہے جب کہ وہ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ سے ظاہر ہوئی۔