انوارالعلوم (جلد 8) — Page 201
۲۰۱ دوسرے یہ کہ اگر یہ تعلق باللہ کی علامت ہے تو ہم ان لوگوں سے دریافت کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ صفت شافی تو ان کی دعا کی وجہ سے حرکت میں آتی ہے اور مریض کو شفا بخشتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی باقی صفات ان کی دعا کے ذریعہ سے جوش میں نہیں آتیں؟ نہ خلق کی نہ علم کی نہ احیاء کی نہ حفاظت کی نہ اور دوسری صفات۔جو لوگ کہ صفات الٰہیہ کے ظہور کے بالکل ہی منکر ہیں وہ تو خیر جواب دے بھی سکتے ہیں کہ خدا کی صفات ظاہر نہیں ہوتیں۔لیکن جو شخص کہ ایک صفت کے متعلق دعویٰ کرتا ہے کہ میری دعا اور توجہ سے وہ ظاہر ہوتی ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اس سوال کا بھی جواب دے کہ پھر باقی صفات کا اظہار خدا تعالیٰ کیوں نہیں کرتا؟ اصل بات یہ ہے کہ علاوہ دعا اور اس کی قبولیت کے انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک طبعی مادہ رکھا ہے کہ اس کی توجہ کا ایک مخفی اثر دوسرے انسان پر ہوتا ہےاو راس کے خیالات کی لہر اس کے معمول کے اندر جا کر اس کے اعصاب پر قبضہ پا لیتی ہے اور اس کے خیالات کو اپنے خیالات کے مطابق کر لیتی ہے اور جب معمول کے خیالات عامل کے خیالات کے مطابق ہو جاتے ہیں تو پھر ان خیالات کے اثر کے نیچے اس کے اندر ایک اچھی یا بری تبدیلی شروع ہو جاتی ہے جو عامل نے معمول کے اندر پیدا کرنی چاہی تھی مگر یہ اثرات قریباً قریباً اعصابی دور تک ہی محدود ہیں۔مثلاً یہ تو ہو جائے گا کہ ایک شخص کی توجہ سے کسی کا بخار ٹوٹ جائے یا آنکھ کی سرخی جاتی رہے یا سر درد دور ہو جائے مگر مثلاً یہ نہیں ہو گا کہ آتشک یا کوڑھ یا سِل وغیرہ کی بیماریاں دور ہو جائیں یہ طاقت مشق کرنے سے بہت بڑھ جاتی ہے اور یہ شرط نہیں ہے کہ ضرور مقررہ قواعد کے ساتھ ہاتھ پھیرنے یا Suggestion (تجویز دینے سے ہی ایسے نتائج نکلیں۔اصل امر تو توجہ کا قیام ہے۔اگر توجہ کا قیام اور احساسات کا اجتماع کسی خاص امر کے متعلق ہو جائے تو خواہ دعا کے ہی رنگ میں ہو اس کا اثر ہو جاتا ہے۔ہر اک شخص جو اس طرف توجہ کرے تھوڑی سی کوشش سے اس میں ترقی کر سکتا ہے بلکہ جو لوگ شراب اور سؤر کا استعمال کرتے ہیں وہ تو بہت ہی جلد اس علم کے ماہر ہو سکتے ہیں۔مگر اس علم میں انسان خواہ کس قدر بھی ترقی کر جائے اسے روحانیت کی ترقی نہیں کہہ سکتے نہ خدا تعالیٰ کا کوئی غیر معمولی نشان قرار دیں گے۔ہاں یہ کہیں گے کہ فلاں شخص نے خد اتعالیٰ کے بنائے ہوئے ایک قدرت کے قانون سے فائدہ اٹھایا ہے۔خلاصہ یہ کہ آج کل جو لوگ شفا کے اس قسم کے شعبدے دکھاتے ہیں وہ ہرگز خدا کے نشانات نہیں کہلا سکتے اور نہ وہ کسی خاص مذہب سے مخصوص ہیں مگر جو نشانات خدا تعالیٰ کی صفت