انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 191

۱۹۱ وفات کے بعد جو 1908ء میں واقع ہوئی ساری دنیا پر اس کا ایسا خطرناک اثر پڑا کہ کوئی اس کی زد سے نہیں بچا۔جو حکومتیں اس جنگ میں شامل ہوئیں ان پر تو اس کا اثر ہونا ہی تھا۔دوسری حکومتیں بھی اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہیں۔مسافروں کے لئے اس کا اثر ایسا سخت تھا کہ اس کا خیال کرنے سے دل کانپتا ہے جس وقت یہ جنگ شروع ہوئی ہے اس وقت لڑنے والی قوموں کے جو لوگ مخالف قوموں کے ملکوں میں تھے وہ جس جس مصیبت میں مبتلاء ہوئے ہیں اور جن جن مشکلات میں پڑ کر بھاگے ہیں یا آخر قید ہوئے ہیں وہ ایک دردناک قصہ ہے ہزاروں تھے جن کو سالوں تک اپنے رشتہ داروں کی اور ان کے رشتہ داروں کی اطلاع نہیں ملی کہ وہ کس حال میں ہیں۔پہاڑ اس طرح اڑائے گئے جس طرح ٹیلے اڑائے جاتے ہیں فرانس کی بعض پہاڑیان جو جنگ کے میدان میں تھیں قریباً برابر کر دی گئیں بارہا ایسی خونریزی ہوئی کہ عملاً خون کی ندیاں بہہ گئیں اور دریا سرخ ہو گئے کئی لوگ اس کے صدمہ سے قبل از وقت بوڑھے ہو گئے اور جیسا کہ کہا گیا تھا کہ بہت سے لوگ پاگل ہو گئے بلکہ پاگلوں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی کہ Shell Shock (جنگی جنون) ایک نئی بیماری قرار دی گئی۔ہزاروں آدمی اس بیماری کا شکار ہوئے اور مہینوں بلکہ سالوں ناقابل کار ہو گئے۔جنگی بیڑے اس کثرت سے چکر لگاتے پھر کہ تا اپنا شکار تلاش کریں کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔زمین ایسی الٹائی گئی کہ اب تک فرانس اپنے تباہ شدہ علاقوں کو درست نہیں کر سکا پرندوں پر اس کا ایسا اثر پڑا کہ ان دنوں خبریں ہوئی تھیں کہ شور اور گولہ باری کی وجہ سے پرندے ہوا میں اڑنے لگ جاتے اور بیٹھ نہیں سکتے تھے اور بہت سے پرندے تھک کر زمین پر گر جاتے او رمر جاتے تھے۔اس جنگ کے آثار مطابق پیشگوئی ایک وقت پہلے ظاہر ہو کر رک گئے تھے۔یعنی جولائی 1911ء میں جبکہ جرمن نے اپنا جہاز پنتھر مراکو کے بندر AGADIR (غار) کی طرف بھیجا تھا کہ تا اس بندر پر قبضہ کرے۔اگر انگریزی حکومت سے سختی سے دخل نہ دیتی اور بعض یورپین مدبر یہ خیال کر لیتے کہ اس وقت ان کے ملک جنگ کے لئے تیار نہیں ہیں۔تو یہ جنگ بجائے 1914ء کے 1911ء میں ہی واقع ہو جاتی۔جیسا کہ بتایا گیا تھا عرب بھی اس جنگ میں اتحادیوں کے ساتھ شامل ہو گئے اور اپنے ملک کے مصالح کو مدنظر رکھ کر انہوں نے ترکوں سے علیحدگی کر لی۔آخر بمطابق پیشگوئی جبکہ درّہ دانیال اور عراق میں تمام کوششیں ناکام رہیں حالانکہ یہی اصل محاذ جنگ سمجھے جاتے تھے مطابق پیشگوئی