انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 178

۱۷۸ خدا ہمارا رب ہے پھر اس امرپر قائم ہو جاتے ہیں۔کوئی مصیبت ان کو ڈراتی نہیں۔ان پر فرشتے یہ کلام لے کر نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور نہ اپنے نقصانات پر غم کھاؤ بلکہ خوش ہو اس جنت پر کہ جس کا تم کو وعدہ دیا گیا ہے ہم تمہارے ورلی زندگی میں بھی دوست ہیں اور مرنے کے بعد کی زندگی میں بھی دوست رہیں گے۔اور تمہیں وہ چیز ملے گی جو تمہارے نفسوں کی خواہش ہے اور جو کچھ مانگو گے وہ ملے گا یعنی لقائے الٰہی کی خواہش جو مومنوں کی اصل خواہش ہوتی ہے اعلیٰ اور اکمل طورسے پوری ہو گی۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ اسلام کلام الٰہی کے نزول کا دروازہ کھلا سمجھتا ہے بلکہ اس کا وعدہ کرتا ہے اور یہ امر ظاہر ہے کہ جس سے خد اتعالیٰ براہ راست یا بذریعہ ملائکہ کلام کرے گا اس کا یقین اور ایمان اللہ تعالیٰ پر کس قدر بڑھ جائے گا اور اس کے دل کو کس قدر تقویت حاصل ہو جائے گی کیونکہ کلام سننا بھی ایک قسم کی رؤیت ہی ہے اگر جنگل میں کوئی دوست جدا ہو جائے او روہ ہمیں آواز دیدے کہ میں فلاں جگہ موجود ہوں تو ہمارا خطرہ اسی طرح دور ہو جاتا ہے جس طرح کہ دیکھ ینے سے۔پس جس شخص سے اللہ تعالیٰٰ کلام کرے اس کے دل کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین ہو جانا چاہئے جیسا کہ دیکھی ہوئی چیز کا ہوتا ہے۔اسلام کا یہ دعویٰ ہی نہیں بلکہ تیرہ سو سال سے برابر آج تک مسلمانوں میں ایسے انسان پیدا ہوتے چلے آئے ہیں کہ جن سے خدا نے کلام کیا ہے او ریہ امر تواتر کی حد تک پہنچا ہوا ہے۔پس اس کے متعلق شک کرنا گویا سَفُسْطَہْ (وہم۔مرتب) کا دروازہ کھولنا ہے۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود پر خدا کا کلام نازل ہوا اور آپ کی قوت قدسیہ کے اثر سے اور ہزاروں آدمیوں کو اس جماعت میں سے خدا ک اکلام سننا میسر ہوا حتیٰ کہ میں سمجھتا ہوں کہ کم سے کم پچاس فیصدی احمدی ہوں گے جنہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں خدا تعالیٰ کا کلام سنا ہو گا اور ان کے ایمان اور یقین کو اس سے تقویت حاصل ہوئی ہو گی۔ایک بات اس جگہ یاد رکھنی چاہئے کہ خدا کے کلام سے مراد وہ تشریح نہیں ہے جو آج کل لوگ سمجھتے ہیں یعنی کوئی خیال نیک ان کے دل میں زور سے پڑ جائے تو وہ اسے الہامی الٰہی قرار دے لیتے ہیں بلکہ بعض لوگ ناواقفیت کی وجہ سے اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ کبھی خدا تعالیٰ کا کلام الفاظ میں نازل نہیں ہوا۔بلکہ نبیوں کے دلی خیالات کا نام ہی کلام الٰہی رکھ لیا گیا ہے اسلام اس امر کا ہرگز قائل نہیں بلکہ اسلام ہمیں یہ بتاتا ہے کہ الہام الٰہی الفاظ میں