انوارالعلوم (جلد 8) — Page 174
۱۷۴ سے اس حد تک واقف ہو جائے جس حد تک کہ اس کے ابنائے جنس کے لئے اس کی حقیقت سے آگاہ ہونا ممکن ہے اور اس کے اثرات کو اپنی ذات پر پڑتا ہوا مشاہدہ کرے۔ان تینوں علموں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص مثلاً دور سے دھواں دیکھے تو اسے یقین ہو جائے گا کہ وہاں آگ جل رہی ہے مگر پھر بھی اسے کامل یقین نہ ہو گا کہ بعض دفعہ آنکھ دھوکا کھاتی ہے اور گرد و غبار کو دھواں سمجھ لیتی ہے لیکن اگر وہ قریب ہو جائے گا اور آگ کو شعلے مارتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو اس کا یقین آگے بڑھ جائے گا مگر پھر بھی خود اس کے نفس کو آگ دیکھنے سے آگ کی پوری کیفیت نہ معلوم ہو گی۔مگر وہ اگر اس کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھے اور اس کے جلانے کی کیفیت کو ملاحظہ کرے تو پھر اس کا یقین اپنے کمال کو پہنچ جائے گا گو ان تینوں قسم کے یقینوں کے پھر اور بھی مدارج ہیں لیکن بڑی تقسیم یہی ہے اور ان مدارج کے حصول کی خواہش طبیعت میں رکھی گئی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا اثر کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک بچہ بھی شاید دنیا میں ایسا نہ ہو گا جس نے کبھی نہ کبھی اس خواہش میں اپنا ہاتھ نہ جلایا ہو۔مذکورہ بالا تینوں مدارج عرفان کو اسلام پیش کرتا ہے پہلا درجہ عرفان الٰہی کا یہ ہے کہ انسان اس کی صفات کے متعلق لوگوں سے سنتا ہے کہ وہ اس طرح ظاہر ہوا کرتی تھیں مثلاً پہلے بزرگوں کے واقعات کو پڑھتا ہے کہ ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کا اس طرح کا معاملہ تھا تو اسکے دل میں ایک حد تک یقین پیدا ہوتا ہے کہ فی الواقع کوئی بات ضرور ہے۔لیکن یہ یقین ایک عارضی جوش پیدا کر سکتا ہے زیادہ نہیں کیونکہ جب وہ خود اس کوچے کی طرف قدم اٹھاتا ہے اور اس شخص کی طرح جو دور سے دھواں دیکھ کر آگ کی تلاش میں چل پڑتا ہے لیکن جس قدر دور چلتا جائے دھوں ہی دھواں اسے نظر آتا ہے آگ کا پتہ کچھ نہیں ملتا آخر مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور خیال کر لیتا ہے کہ یہ دھواں میری آنکھوں کا دھوکا ہے شاید کہ کوئی بادل کا ٹکڑا ہو یا کچھ اور۔اسی طرح وہ شخص جو ان پرانے قصوں کے حاصل ہوئے ہوئے علم سے تسلی پا کر خود کوشش کرنے لگتا ہے آخر مایوس ہو جاتا ہے صرف وہی لوگ ان قصوں سے تسلی پاتے ہیں جو خود کچھ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور اس وجہ سے ان کے یقین کے باطل ہونے کا ان کو موقع ہی نہیں ملتا مگر یہ حالت ہرگز قابل رشک نہیں۔اسلام صرف پہلے ہی درجہ تک انسان کے عرفان کو محدود نہیں کرتا بلکہ جیسا کہ بتایا گیا ہے وہ