انوارالعلوم (جلد 8) — Page 172
۱۷۲ بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ () أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (يونس:8-9) ضرور وہ لوگ کہ انہیں ہم سے ملنے کی خواہش نہیں ہے اور مادی اسباب اور مادی ترقیات پر راضی ہو گئے ہیں اور اسی پر مطمئن ہیں دنیا مل جائے تو سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہمیں ملنا تھا مل چکا اب ہمیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں اور وہ لوگ جو ہمارے نشانا ت کو دیکھ کر بھی جو ہم اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے دکھاتے ہیں غفلت میں ہی پڑے رہتے ہیں یہ لوگ وہ ہیں کہ چونکہ حقیقی آرام کے سرچشمہ سے خود دور ہوئے ہیں ان کو کبھی سچی راحت نہیں ملے گی بلکہ اپنے اعمال کے نتیجہ میں روحانی طور پر تکلیف ہی پاتے رہیں گے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ (الرحمن:47) جو لوگ اپنے رب کے درجہ کو سمجھ لیتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں ان کو دو جنتیں دی جاتی ہیں یعنی ایک اس دنیا میں اور ایک مرنے کے بعد۔اور ایک دوسرے مقام پر جنت کے اعلیٰ انعامات میں سے یہ انعام بیان فرماتا ہے وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ () إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (القيامة:23-24) بعض چہرے یعنی وہ لوگ جو جنت میں داخل ہوں گے بہت خوش ہوں گے کیونکہ وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اس جہان میں جنت مل جانے کے یہ معنے ہیں کہ اس جہان میں ان کو خدا تعالیٰ کا دیدار اور رؤیت نصیب ہو جائے گی اور اپنی روحانی آنکھوں سے اس کی صفات کا عرفان حاصل کر لیں گے اور ان کو اپنے نفس کے اندر جاری پائیں گے۔ایک جگہ فرماتا ہے فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرة:153) یعنی تم مجھے یاد کرو تو میں تم لو لقاء کے مقام پر ترقی دوں گا اور میرا شکر کرو اور میری نعمتوں کا کفران نہ کرو۔یعنی جب دنیا کے آرام کے لئے میں نے اس قدر سامان بہم پہنچائے تو اس اصل خواہش کو جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے کیوں پورا نہیں کروں گا۔اب یہ سوال ہوتا ہے کہ اس لقاء اور رؤیت کی اسلام کیفیت کیا بتاتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی لطیف چیز کی کیفیت بتانی تو طاقت انسانی سے بالا ہے۔وہ کیفیت تو صرف دل کے سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے جو شخص اس کیفیت کو حاصل کرتا ہے وہی اس کو سمجھ سکتا ہے دوسرے شخص کو اس کا سمجھانا آسان کام نہیں ہے کیونکہ وہ نئی کیفیت ہے اور لوگ انہی کیفیات کو سمجھ سکتے ہیں جو ان پر طاری ہو چکی ہوں۔مثلاً جس نے میٹھا کھایا ہے اس کو تو ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ میٹھے کا لطف کیا ہے۔جب ہم یہ کہیں گے کہ فلاں چیز میں بہت میٹھا تھا فوراً اس شخص کے ذہن میں وہ کیفیت جو