انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 145

۱۴۵ ہے۔پس گناہ کی موجودگی میں بھی اللہ تعالیٰٰ کی رحمانیت اور اس کی قدوسیت پر اعتراض نہیں پڑ سکتا۔قرآن کریم میں جس قدر نام گناہ کے آتے ہیں وہ سب کے سب ایسے ہیں کہ جو یا افراط پر دلالت کرتے ہیں یا تفریط پر کوئی بھی ایسا نہیں جو اسمائے مثبتہ میں سے ہو جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک گناہ کی مستقل حقیقت کوئی نہیں بلکہ نیکی کے عدم کا نام گناہ ہے اور عدم بندے کے فعل کا نتیجہ ہوتا ہے جب وہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو چھوڑ دیتا ہے یا دوسرے کے حق کو اٹھا لیتا ہے تو وہ ایک چیز کو معدوم کرنے کا مرتکب ہوتا ہے نہ کہ اثبات کا۔اس لطیف تعلیم کو جو قرآن کریم نے اس بارے میں دی ہے کہ باوجود ضرر رساں چیزوں کی موجودگی کے خدا تعالیٰ کی صفات حسنہ پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا دوسری کتب ہرگز پیش نہیں کرتیں اور نہ وہ اس طرح دعویٰ کے ساتھ دلیل دیتی ہیں۔یہ صرف قرآن کریم کا کمال ہے کہ وہ نہ صرف خدا تعالیٰ کی صفات کو بیان کرتا ہے بلکہ ان کے متعلق ایسا تفصیلی علم دیتا ہے کہ دل اس کے ذریعہ سے محبت اور اطاعت کے جذبہ سے پُر ہو جاتا ہے اور دماغ سرشار ہو جاتا ہے اور آنکھیں مخمور ہو جاتی ہیں اور تمام شکوک و وساوس بالکل مٹ جاتے ہیں ورنہ اجمالی طور پر اسمائے الٰہی کا بیان کرنا کوئی کمال نہیں ہے۔اسی طرح مثلاً خدا کی صفت رحم کے خلاف یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بڑوں کو تو خیر ان کے اعمال کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے بچوں وغیرہ کو کیوں تکلیف ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب بھی مذکورہ بالا جواب میں آ گیا ہے یعنی خدا تعالیٰ نے ایک قانون بنایا ہے اور اس قانون میں یہ بات رکھی ہے کہ ہر ایک چیز دوسرے سے اثر قبول کرتی ہے۔اگر یہ قانون نہ ہوتا تو انسان ناقابل تغیر ہوتا اور جب وہ تغیر کو قبول نہ کرتا تو اب جو وہ ترقیات قبول کر رہا ہے یہ بھی نہ کرتا اسی قانون کے ماتحت بچے وغیرہ اپنے ماں باپ سے اچھی باتیں بھی قبول کرتے ہیں اور بری باتیں بھی قبول کرتے ہیں۔صحت بھی ان سے لیتے ہیں اور بیماری بھی۔اگر بیماریاں یا تکالیف ان کو ماں باپ سے ورثہ میں نہ ملتیں تو اچھی طاقتیں بھی نہ ملتیں اور بجائے انسان کے ایک پتھر کا وجود ہوتا جو بُرے بھلے کسی اثر کو قبول نہ کرتا او رجو غرض انسان کی پیدائش کی ہے وہ باطل ہو جاتی اور انسان کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتی۔باقی رہا یہ سوال کہ اس تکلیف کا جو ان کو اس قانون قدرت کی وجہ سے ملتی ہے ان کو کیا بدلہ ملے گا؟ کیونکہ گو قانون قدرت انسان کی ترقی کے لئے ہے مگر پھر