انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 126

۱۲۶ شبہ سے نکال کر یقینی ایمان لوگوں کو عطا کرنا اور دلوں کو بے اطمینانی کی حالت سے بچا کر سکون اور آرام دینا اور علوم آسمانی کو کھولنا اور اخلاقی اور روحانی اور علمی اور عملی مشکلات کو حال کرنا اور مظلوموں کو آسمانی حربوں کے ذریعہ سے ظلموں سے بچانا اور جن جماعتوں کے حق غصب ہو چکے ہیں ان کے حقوق واپس دلانا اور دنیا میں سے جنگ اور فساد کو دور کر کے باہمی صلح کرانا اور سب دنیا کو ایک دین اور ایک کلمہ پر جمع کرنا اور تمام اقوام تک سچائی کو پہنچانا اور اسلام کو الحاقی غلطیوں سے پاک کرنا اور اس کے سچے علوم کو دنیا کے سامنے پیش کرنا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نشانات ظاہر کر کے لوگوں پر اس کے جلال کو ظاہر کرنا تھا۔کیسا شاندار کام اور کیسا شاندار مستقبل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مدعی آج تک ایسا بھی گذرا ہے جو ان امور کے خلاف کہتا ہو؟ ہر ایک مدعی ہمیشہ دنیا کے سامنے ایسے ہی شاندار مستقبل اور ایسے ہی شاندار مقاصد رکھا کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بغیر اس کے لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کریں گے اور اس زمانہ میں جبکہ اشاعت پر ہی ہر ایک کام کی بنیاد ہے ایسے خوشنما اعلان نہایت ہی ضروری ہیں۔پس اگر صرف ان اعلانوں تک ہی آپ کے دعویٰ کی بنیاد رہتی تو آپ کا دعویٰ ہرگز قابل قبول نہ ہوتا اور دوسرے مدعیوں کے مقابلہ میں اسے کوئی خاص فوقیت حاصل نہ ہوتی لیکن جیسا کہ میں ابھی بتاؤں گا آپ نے ایسی تعلیم دی ہے اور وہ قواعد مقرر فرمائے ہیں کہ ہر ایک عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ اغراض بوجہ احسن پوری ہو سکتی ہیں جو آپ نے اپنے آنے کا موجب قرار دی ہیں۔مگر اس جگہ ایک سوال ہے اور میرے نزدیک ا س سوال کا سمجھنا لوگوں کے لئے بہت مشکل ہے مگر اس کے سمجھنے کے بغیر احمدیت کی حقیقت بھی سمجھ میں نہیں آ سکتی اور وہ یہ ہے کہ جب بانی سلسلہ احمدیہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ علوم قرآن کریم کی اشاعت کے لئے آئے ہیں اور اپنے آپ کو ایک مسلمان قرار دیتے ہیں اور امت محمدیہ میں سے ایک فرد تو ان کی ضرورت اور سلسلہ کی اہمیت بحیثیت ایک جماعت کے کیا باقی رہ جاتی ہے؟ تب تو ان کی حیثیت ایک عالم یا ایک صوفی کی رہ جاتی ہے اور سلسلہ احمدیہ محض ایک علمی جماعت کے دوسرے درجہ کی حیثیت پر جا گرے گا لیکن یہ خیال صداقت سے بالکل دور ہو گا اور سلسلہ احمدیہ کے سمجھنے سے بالکل محروم کر دے گا۔اصل بات یہ ہے کہ احمدیت کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو شریعت