انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 103

۱۰۳ کہلانے کے لئے زیادہ حقدار ہوں گے۔ساتویں احتیاط یہ ضروری ہے کہ ایسے قواعد تجویز کئے جائیں کہ جن کی موجودگی میں کثیر التعداد قو میں قلیل التعداد قوموں پر ظلم نہ کر سکیں یا ایسے قواعد نہ بنا سکیں جو ان کے عقائد یا احساسات کے خلاف ہوں۔پچھلے سمجھوتے میں اس کا تدارک کرنے کے لئے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ کسی کے مذہب کے متعلق کوئی ایسا قاعدہ نہیں بتایا جا سکے گا جب تک اس قوم کے تین چوتھائی نمائندے اس کے ساتھ متفق نہ ہوں لیکن یہ سمجھو تہ کافی نہیں تھا۔مذہبی امور میں دست اندازی بھی گو ممکن ہے لیکن اس تعلیم کے زمانہ میں ایک قوم دوسری قوم پر اس طرح ظلم نہیں کیا کرتی کیونکہ اسے خوف ہوتا ہے کہ دنیا کی رائے عامہ اس کے خلاف ہو جائے گی۔پس اس امر کا چنداں خوف نہیں کہ کوئی حکومت بھی اس امر کا قانون بنانا چاہے کہ مسلمان روزے نہ رکھیں یا یہ کہ نماز نہ پڑھیں یا یہ کہ حج نہ کریں۔جس امر کا خوف ہو وہ یہ ہے کہ ایسے قوانین نہ بنائے جائیں جو بظاہر تو سیاسی یا تمدنی ہوں لیکن ان کا اثر دوسری قوم کے مذہب یا اس کے وقار کے خلاف ہو۔مثلاً گائے کی قربانی کو بند کر دیا جائے اور مذ ہبی سوال کی بناء پر نہیں بلکہ یہ کہہ کر کہ ملک میں گائیں کم ہو گئی ہیں اس لئے زراعت اور دودھ، گھی کی حفاظت کے لئے ایسا کیا جا تا ہے اور یہ تمدنی سوال ہے نہ مذہبی نہیں۔یا یہ کہ ایک سے زیادہ شادیوں کا قانون پاس کر دیا جائے۔یہ ایسے امور ہیں کہ بظاہر تمدنی نظر آتے ہیں لیکن ان مسائل میں اسلام کو ایک خاص تعلق ہےگائے ہی قربان کرنے کا حکم مسلمانوں کو نہیں ہے لیکن گائے کی قربانی کے معاملہ میں چونکہ ہندو مسلم تعلقات کو دخل ہے اس لئے ایسا قانون سیاسی نہیں بلکہ مذ ہبی دست اندازی سمجھاجائے گا۔ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کا حکم اسلام نہیں دیتا مگر چونکہ اس اسلامی رخصت پر دنیا اعتراض کرتی ہے اس امتیاز کے خلاف قانون پاس کرنے کے معنے ہیں یہ ہوں گے کہ اسلام کے احکام کے ناقص ہونے کا فیصلہ دیا گیا ہے کیونکہ ایسے امور کا تقاضا سیاست ملکی نہیں کرتی بلکہ اصلاح تمدن ان کا مقتضی ہو تا ہے پس ان امور میں کسی مذہب کی اجازت کے خلاف فیصلہ کرنے کے یقیناً یہ معنے ہیں کہ اس کی اجازت کو ناواجب قرار دیا گیا ہے۔غرض جن امور میں اختلاف اور ظلم کا خوف ہے وہ ایسے امور ہیں کہ جن میں یہ بین الا قوامی اختلاف ہے یا اسلام جن میں دوسری قوموں کے سامنے محل اعتراض ہے پس سمجھوتے میں یہ نہیں ہونا چاہئے کہ مذہبی امور میں ایک قوم دوسری قوم کے خلافِ منشاء قانون نہیں بنا سکتی بلکہ