انوارالعلوم (جلد 8) — Page 98
۹۸ پیش کرتا ہوں کہ شاید گورنمنٹ کے دخل کے بغیر آپس کے سمجھوتے سے ان پر عمل ہو سکے اور ملک میں امن قائم ہو جائے وہ تجاویز یہ ہیں۔۱۔تمام مذاہب کے پیرو اس امر پر متفق ہو جائیں کہ وہ مذہب کے متعلق کوئی تصنیف باتقریر کرتے ہوئے صرف اپنے مذہب کی خوبیاں ہی بیان کریں گے دوسرے مذہب پر حملہ بالکل نہیں کریں گے۔اور ایسا عہد کرنے پر ان کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی مذہب کی سچائی اس کی اپنی خوبیوں کے اظہار سے ثابت ہوتی ہے نہ کہ دوسرے مذاہب کے نقائص کے بیان ہے۔اگر اس طریق تصنیف و بحث کو لوگ قبول کر لیں تو آئندہ نہ ہی مباحثات اور مناظرات ایسے امن سے ہوں کہ کسی قسم کا فتنہ پیدا نہ ہو۔۱؎ اگر اس تجویز کو قبول نہ کیا جائے تو دوسری تجویز یہ ہے کہ۔۲ - ہرمذ ہب کے پیرواپنی مسلمہ کتب کے نام لکھوادیں اور جو شخص کسی مذہب کے متعلق کچھ لکھے اس کی مسلمّہ کتب ہی کی بناء پر لکھے۔اس وقت دیکھا جاتا ہے کہ محض جوش پیدا کرنے کے لئے قصوں اور کہانیوں کی کتب تلک سے اعتراض درج کر لئے جاتے ہیں اور محض جھوٹی روایات کی بناء پر کتابیں اور مضامین لکھ کر دوسرے فریق کا دل دُکھایا جاتا ہے اس کے ساتھ یہ شرط بھی ہونی چاہئے کہ اپنے مقابل فریق کے مسلّمہ عقائد کے خلاف ان کی طرف کوئی بات منسوب نہ کی جائے۔یہ امر بھی فتنہ کو بڑھا تا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل ایک دوسرے کی طرف وہ باتیں منسوب کی جاتی ہیں جو طرفین کے ذہن میں بھی نہیں ہوتیں اعتراض صرف اس امر پر کرنا ہوا ہے جس کا کوئی شخص مدعی ہو نہ کہ اس کی طرف ایک غلط عقیده منسوب کر کے پھر اس پر اعتراض کرنے شروع کردیئے جاویں اگر یہ تجویز قبول نہ کی جائے تو پھر تیسری تجویز ہے۔٣۔کہ تمام مذاہب کے پیرو آپس میں معاہدہ کریں کہ وہ ایسا اعتراض اپنےمخالف پر نہ کریں جو خود ان کے مسلمات پر بھی پڑتا ہو کیونکہ ایسے اعتراضات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اصل غرض چِڑانا اور جوش دلانا ہے۔اس طریق کو اختیار کرنے سے بھی بہت سے جھگڑے بند ہو سکتے ہیں کیونکہ دیکھا جاتا ہے کہ مختلف مذاہب کے پیرو اکثر اعتراض ایسے کرتے ہیں جو خود ان کے مذہب پر بھی پڑتے ہیں۔۲؎ یہ تین تجاویز حضرت مسیح موعودؑ بإنی سلسلہ احمدیہ نے بین الا قوامی مذہبی تعلقات کے بہتر بنانے کے لئے پیش فرمائی ہیں اور ان میں سے کسی ایک پر بھی اگر عمل کیا جائے تو فتنہ بہت کچھ