انوارالعلوم (جلد 7) — Page 79
۷۹ نجات ایک بطورحق کے اس میں داخل ہوں گے یہ تو وہ لوگ ہیں کہ جو ہر طرح دنیا میں اللہ تعالیٰٰ کی رضاء کو حاصل کرتے رہے اور ایک وہ لوگ جو بطور رحم اور بخشش کے جنت میں داخل کئے جائیں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ کی آیت میں۔حق سے مراد یہ نہیں کہ حقیقی طور پر مومن کاحق ہو گا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی ٰنے اپنے فضل سے مومن کا یہ حق مقرر کردیا ہے دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ پہلے یہ فرماتا ہے کہ میں جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا۔اور پھر فرماتا ہے میری رحمت وسیع ہے اور پھر کافروں کو کہتا ہے کہ دیکھو جب میں ہر ایک کو اپنی رحمت رہنے کے لئے تیار ہوں تو کیا محمد ﷺکو ہلاک ہونے دوں گا جب ہلاک ہونے والوں کو بچانے کے لئے تیار ہوں تو اس کو کیوں ہلاک ہونے دوں گا؟ اسی طرح حدیث میں آتا ہےیاتی علی جهنم زمان ليس فيها احد و نسیم الصباء تحرك ابوابها ۳۸۔ترجمہ : ایک زمانہ جہنم پر ایسا آئے گا کہ ہوا اس کے دروازے کھٹکھٹائے گی گویا سب لوگ جہنم سے نکل چکے ہوں گے اور اس لئے اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور عذاب کی جگہ اس کے مقام پر بھی رحمت کی ہوائیں چل پڑیں گی۔اور وہ مقام عذاب کا نہیں رہے گا۔اسی طرح حدیث شفاعت میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ شفاعت سے کچھ لوگوں کو نکالے گا۔آخر خدااپنی مٹھی ڈالے گا اور جس قدر اس کی مٹھی میں لوگ آئیں گے سب کو نکالے گا اور یہ بات ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی مٹھی سے کوئی چیز باہر نہیں رہ سکتی۔پھر عقلی دلیل یہ ہے کہ خدا تعالی ٰکی صفات دو قسم کی ہیں۔ایک غضب والی۔دوسری رحمت والی۔صفات غصنیہ صرف بندے کے فعل کے جواب میں ظاہر ہوتی ہیں اور صفات رحمت بندے کے فعل کے بغیر بھی ظاہر ہوتی ہیں۔جیسے خدا تعالیٰ نے انسان کو ناک، کان ،منہ دیا ہے یہ کسی فعل کے نتیجہ میں نہیں دیا بلکہ اپنی رحمت سے دیا ہے۔پس رحمت کی صفت و سیع ہے اور جب کہ یہ صفت اپنے غرض میں اس قدر وسیع ہے ضروری ہے کہ اپنے طول میں بھی وسیع ہو۔یعنی ایک زمانہ آئے کہ یہ صفات غضبیه سے آگے نکل جائے اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ آخر سب لوگ معاف کردیئے جائیں۔