انوارالعلوم (جلد 7) — Page 70
۷۰ نجات ایک حدیث کا مطلب اس جگہ ایک حدیث کے متعلق یاد رکھنا ہے کہ صوفیاء اس کے متعلق بڑے چکر میں پڑے ہیں اور اسے حل نہیں کر سکے۔حدیث ہے۔اذا سمعتم بجبل زال عن مکانہ فصدقوہ واذا سمعتم برجل تغیر عن خلقہ فلا تصدقوابہ یعنی جب یہ سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا تو یہ ٹھیک ہو سکتا ہے مگر جب یہ سنو کہ کسی نےاپنی طبیعت کو چھوڑ دیا تو یہ غلط ہے۔اس کے متعلق سوال ہو سکتا ہے کہ جب کوئی انسان طبیعت کوچھوڑ نہیں سکتا تو پھر میلان گناہ بھی نہیں جاسکتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جو آیا ہے کہ طبیعت کےچھوڑنے کو تسلیم نہ کرو اس کے دو معنی ہیں۔ایک تو قدلبث فيكم عمرا سے حل جاتےہیں یعنی رسول کریم ﷺنے بتایا کہ کبھی یہ نہیں ماننا ہے کہ یکدم کسی کی طبیعت بدل گئی رات کو ایک شخص پاکباز سویامگرصبح کو اٹھ کر خدا پرافتراءکرنے لگ جائے ہے یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ایسے تغیرات لمبے عمر صہ کے بعد ہوا کرتے ہیں۔دوسرے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انسان گندے سے نیک نہیں سکتا اور نیک سے گندہ نہیں ہو سکتا بلکہ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اصول اخلاق بدل نہیں سکتے۔مثلاً جو شخص نرم طبیعت کو ہووہ سخت نہیں ہو سکتا اور جو سخت طبیعت کا ہے وہ نرم طبیعت کا نہیں ہو سکتا۔یا مثلا ًجو شخص طبعی طور پر سیاست سے میلان رکھتا ہے وہ عمدہ جرنل نہیں ہو سکتا اور جو کلی طور پر جنگی معاملات کی طرف میلان رکھتا ہے وہ سیاست کی طرف جھک نہیں سکتا۔غرض مشق سے ، محنت سے، عادت سے خواہ کسی قدرہی کوئی دوسرے پیشہ کی طرف توجہ کرے وہ ایسا اعلیٰ اس فن میں نہیں هو سکتاجس قدر کہ وہ اس فن میں ہو سکتا ہے جس سے وہ طبعی میلان رکھتا ہے۔اور اس میں یہ سیاسی سبق دیا ہے کہ جب حکومت مسلمانوں کے ان کو چاہئے افسر مقرر کرتے وقت ان کی طبائع کود یکھ لیا کریں کہ ان کامیلان کس طرف ہے۔ورنہ سے مراد نہیں کہ نیک بد اور بد نیک نہیں ہو سکتا کیونکہ اول تو یہ تعلیم قرآن کے خلاف ہے پھر مشاہدہ کے خلاف ہے۔اور یہ بات بھی ہے کہ نیکی بدی خلق نہیں ہے۔نیکی بدی تو طبعی اخلاق کےصحیح یابد استعمال کا نام ہے اور اس حدیث میں ان طبعی قوتوں کے بدلنے کو مشکل قرار دیا ہے جو انسان کی پیدائش کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں نہ کہ ان کےصحیح یا غلط استعمال کو۔