انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 69

۶۹ نجات پاس تک نہ پھٹکا۔پھران کے متعلق صديقانبیاآیا ہے۔اور صدیق اس کو کہتے ہیں جو دل میں بھی ویساہوجیسا ظاہر میں۔یہ تو وہ وجود ہیں جن کے متعلق ثابت ہے کہ گناہ سے پاک ہیں مگر قرآن کریم سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے وجودبھی گناہ سے پاک ہو سکتے ہیں جو پہلے گنہگار تھے۔چنانچہ فرماتا ہے۔یايها الذين امنواان تتقوا یجعل لكم فرقانا ويکفر عنكم سياتكم ويغفرلکم والله ذوالفضل العظيم ۲۲ یعنی اے مسلمانو! اگر تم اللہ تعالیٰ ٰکاخوف رکھو اور اس سے مدد مانگو تو وہ تمہارے لئے تمهاری مشکلات میں سے نکلنے کا راستہ بنا ویگا اور تمہاری بد عادتوں کو دور کر دے گا اور پچھلے گناہ بھی بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔اہل بیت نبوی کے متعلق بھی فرماتا ہے۔انمايريد اللہ ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهيرا۔۲۳۔اللہ تعالیٰٰ کا اس کے سوا اور کوئی منشاء نہیں کہ تمہاری تکالیف کو دور کردے اے اہل بیت !اور تم کو خوب اچھی طرح پاک کردے۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی رو سے اس دنیا میں بھی انسان پاک ہو سکتا ہے۔میلان گاہ سے نجات اب یہ سوال ہے کہ کیا میلان گناہ سے بھی نجات ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اسلام میلان گناہ کو بھی دور کر سکتا ہے۔عیسائیوں کو اس بات کا بڑا دعوی ٰہے کہ اس بات کو ہمارے مذہب نےہی بیان کیا ہے اور کسی نے بیان نہیں کیامگر عجیب بات یہ ہے کہ وہ یہ اعتراض تو کرتے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ اس مسئلہ کو جس طرح اسلام نے بیان کیا ہے اس طرح عیسائیت نے بھی بیان نہیں کیا۔نبی تو الگ رہے خدا تعالیٰ عام مومنوں کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ ان کا میلان گناہ بھی مٹادیا جاتا ہے۔سورہ محمدؐ میں آتا ہے۔والذين امنوا وعملوا الصلحت و امنوا بما نزل على محمد وهو الحق من ربهم کفرعنهم سياتهم وأصلح بالهم ۲۴ کہ اسلام کا خداوه خدا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لاتے اور عمل صالح کرتے ہیں خدا ان کی بدیوں کو مٹادیتا اور ان کے دلوں کو درست کر دیتا ہے۔ان کے ظاہری عمل ہی درست نہیں ہو جاتے بلکہ ان کے قلوب بھی پاک ہو جاتے ہیں اور گناہ کا میلان تک جاتا رہتا ہے۔پس رسول کریم ﷺتو الگ رہے آپؐ کے خدام کی نسبت بھی خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں ان کے دل صاف کردیتا ہوں۔