انوارالعلوم (جلد 7) — Page 63
۶۳ نجات مشہور ہے کہ ایک شخص جو اپنے آپ کو بڑا بہادر سمجھتا تھا اپنی کلائی پر شیر کی تصویر گدوانے لگا۔جب گودنے والے نے گودنا شروع کیا۔اور اسے تکلیف ہوئی تو کہنے لگا۔کیا گود رہے ہو؟ اس نے کہاشیر کی دم گود رہا ہوں۔کہنے لگا اگردم نہ ہو۔تو شیر رہتا ہے یا نہیں؟”اس نے کہاہاں شیرتو رہتا ہے۔کہنے لگا اچھا اس کو چھوڑ دو اور آگے گودو - پھروه کان گودنے لگا تو اس نے پوچھا گیا گودتے ہو؟ اس نے بتایا۔کہنے لگا کان نہ ہوں تو شیر رہتا ہے یا نہیں؟ گودنے والے نے کہارہتاہے۔کہنے لگا اچھا اسے بھی جانے دو اور آگے گودواس طرح جو عضو گودنے لگتا اس کے متعلق یہی کہہ کر چھڑا دیا اور آخر بغیر گدواۓ اٹھ کر چلا گیا۔یہی حال عام انسانوں کا ہوتا ہے۔ایک شخص سمجھتاہے کہ میں بڑا پکامومن ہوں۔اور یہ وہ بناوٹ ہے اور جھوٹے طور پر نہیں کہتا بلکہ اس کو یقین ہو اہے اور وہ دل سے کہہ رہا ہوتا ہے مگر جب وقت آتا ہے تو اسے پتہ لگتا ہے کہ میرا دعویٰ درست نہ تھا۔بائبل میں آتا ہے کہ حضرت مسیحؑ نے ایک شخص کے متعلق کہایہ مجھے دشمنوں کے ہاتھوں میں پکڑائے گا۔یہ سن کر وہ شخص رو پڑا مگر تھوڑی دیر کے بعد چند روپے لے کر اس نے پکڑوا دیا۔۔گویا جب روپے اس کے سامنے آئے تو اسے اس سے محبت کی حقیقت معلوم ہوئی جو وہ حضرت مسیحؑ سے رکھتا تھا۔پس خدا تعالیٰ ابتلاء کے ذریعہ انسان کو بتاتا ہے کہ تیری کیا حالت ہے اور جب مومن پر مشکل گھڑی آتی ہے اور اسے اپنے اندر کسی قسم کی کمی اور کمزوری معلوم ہوتی ہے تو وہ اس کے دور کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔جیسے مثلاً چنده خاص کی تحریک سے جو اس میں حصہ لینے کے متعلق اپنے دل میں قبض محسوس کرے وہ اس کو دور کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔یہ ادنیٰ درجہ تھاجب مومن اس سے اوپر ترقی کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کو تکالیف میں ڈال کر دوسروں کود کھانا چاہتا ہے کہ دیکھو میرا یہ بندہ کیسا صابر اور کیسا شکر گذار ہے۔حضرت ایوبؑ کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ شیطان نے خدا سے کہا کہ تیرے بندے نافرمان ہیں۔خدا تعالیٰ نے کہاایسا نہیں ہے۔شیطان نے کہا جن پر تو انعام کرتا ہے وہ اس انعام کی وجہ سے تیری نافرمانی نہیں کرتے۔ورنہ دراصل وہ شکر گزار اور فرمانبردار نہیں ہیں۔خدا تعالیٰ نے کہا دیکھ میرا بندہ اب ایسا نہیں ہے۔شیطان نے کہا مجھے اس کا امتحان لینے کی اجازت دیجئے میں اس سے تمام انعام چھین لوں ھپر معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیسا ہے۔خدا تعالیٰ نے اجازت دے دی اور ان کا سب عیال و اموال مرنے اور تباہ ہونے لگا۔جانورمال وغیرہ اور اولاد سب تباہ و