انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 58

۵۸ يديه (۵) پانچویں نجات خیالات کی پراگندگی کے عذاب سے بچنا ہے۔ایسا انسان کسی بات پر قائم نہیں رہ سکتا۔کوئی تکلیف اس کو نہیں ہوتی مگر اس کے خیالات میں اجتماع نہیں ہوتا۔دوسری قسم کی نجات دوسری قسم کاعذاب بد عقائد با ضمیر کا عذاب ہے یعنی ضمیر انسان کو ملامت کرتی ہے۔ایک بات پر وہ قائم ہو تا ہے اور کہتا ہے کہ یہ یوں ہے مگر اندرسے ضمیر اسے کہتی ہے تو جھوٹ بول رہا ہے۔یہ ضمیرکا عذاب ہے اس سے بچ جانا دوسری قسم کی نجات ہے۔تیسری قسم کی نجات تیسری قسم کاعذاب قرآن کریم سے گناہ یا بر اعمال کاعذاب معلوم ہوا ہے۔اس سے بچ جانا تیسری قسم کی نجات ہے۔چوتھی قسم کی نجات چوتھی قسم کا عذاب میلان گناہ کا عذاب ہے۔ایک انسان عملاً گناہ نہیں کرتا مگر اس میں میلان گناہ ہوتا ہے۔اس کا دل اس قدر مر چکا ہوتا ہے کہ اسے گناہ میں لذت آنے لگتی ہے۔یہ میلان گناہ کا عذاب ہے اس سے جانا بھی نجات ہے۔پانچویں قسم کی نجات یہ ہے کہ گناہ کے طبعی نتائج سے انسان بچ جائے۔طبعی سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کو لاٹھی مارتا ہے اس کے دونتیجے نکلیں گے ایک تو یہ کہ دوسرا شخص اس سے لڑے گا اور ایک یہ کہ اس کے ہاتھ کی ورزش ہوگی یہ طبعی نتیجہ ہے۔تو گناہ کے میں نتیجہ سے بچ جانا نجات ہے۔یعنی انسان ایک گناہ کر تا ہے پھر اس سے آگے گناہ کرنے کی خواہش پیداہوتی ہے اس سے بچ جاتا ہے۔چھٹی قسم کی نجات یہ ہے کہ انسان گناہ کے شرعی نتیجہ سے بچ جائے گا مثلاًاس نے چوری کی اور خدا نے کہا اس کا بیٹا مرجائے۔یہ شرعی سزا ہے ورنہ چوری کرنے سے بچے کے مرنے کا تعلق نہیں۔ساتویں قسم کی نجات یہ قسم نجات کی اصل ہے اور باقی اس کی شاخیں ہیں اور وہ یہ ہے کہ بعد الہٰی سے انسان نجات پا جائے۔خدا تعالی ٰکے ملنے کی جو خواہش اس کے دل میں ہے وہ پوری ہو جائے۔اس نجات میں سب قسم کی نجاتیں آجاتی ہیں جیسے کہتے ہیں ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں اسی طرح اس نجات میں سب نجاتیں شامل ہیں۔اسی درجہ میں جا کر انسان تک کے عذاب سے