انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 52

۵۲ ہے کہ چاہے کوئی خدا کو بھی مانے یا نہ مانے مگر اس کو ضرور مانتا ہے پھر جو قوم خدا کو بھی مانتی ہو اس کی اس کے حصول کے لئے کتنی ذمہ داری ہے؟ اس زمانہ میں دیوسماجی ایک فرقہ ہے۔اور وہ دہریہ ہیں مگر وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ انسانی روح ترقی کر جاتی اور اعلی ٰمراتب حاصل کرلیتی ہے۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ یورپ کے دہریہ بھی نجات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔وہ کسی مذہب کے قائل نہیں مگر وہ بھی کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد روح ترقی کرتی ہے اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے تاکہ مرنے کے بعد روح آرام حاصل کرے۔وہ نجات کی تعریف مختلف کرتے ہیں مگر یہ سب مانتے ہیں کہ ہم نجات میں نہیں ہیں اسے حاصل کرنا چاہئے۔بدھ کی نجات کے لئے کوشش پرانے زمانے میں نجات کے لئے جو کوششیں کی گئی ہیں ان میں سے ایک عجیب واقعہ ہے جو طبیعت پر بڑاثر کرتا ہے۔اور وہ بدہ کا واقعہ ہے بدھ کے معنی ہیں جاگا ہوا اور نیند سے اٹھ بیٹھا۔لکھا ہے کہ بدھ راجہ کا بیٹا تھانجومیوں نے اس کے متعلق کہا کہ یا تو یہ بڑا معلم ہو گا یا بڑا بادشاہ ہو گا- (یاد رکھنا چاہنے کے ایسے واقعات میں بات دی جھوٹی باتیں بعد میں مل جاتی ہیں)- اس کے باپ نے سوچا کہ میرا یہی ایک بیٹا ہے میں اس کو معلم نہ بننے دوں بلکہ یہ بادشاہ بنے۔اس کے لئے اس نے نجومیوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کو ایسے لوگوں کے ملنے نہ دو جن کا رجحان علم کی طرف ہو- اس پر اس کے باپ نے ایک قلعہ بنایا اور اس میں ایسے نوکررکھے جو ہر وقت خوش و خرم رہیں۔ان میں سے اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو اس کو ہٹا دیا جا - اسی طرز پر اس کی پرورش کی اور کوئی غمناک بات اس کے سامنے نہ ہونے دی حتیّٰ کہ وہ جوان ہو گیا اور اس وقت تک اسے کبھی دکھ کا پتہ نہ لگنے دیا گیا (یہ تو مبالغہ ہے اگر دوسروں کے دکھ اسے معلوم نہ ہونے دیئے۔تو کیا اس عمر میں اسے خود بھی کوئی دکھ اور تکلیف نہ ہوئی ہوگی؟) آخر کہتے ہیں کہ اس نے اپنے باپ کو کہا کہ میں اندر رہتے رہتے تنگ آگیا ہوں اور باہر نکلنا چاہتا ہوں۔باپ نے اس کی بات کو مان لیانگر نوکروں سے کہا کہ اسے شہر میں نہ لاؤشہر کے با ہرباہر ہی پھیراؤ - ایک امیراس کی رتھ ایک سڑک پر لے گیامگرعجیب بات یہ ہوئی کہ ایک بیمار مسافراسی سڑک پر بیٹھاتھاجس کو لوگ شہر میں نہ رہنے دیتے تھے وہ اس کو ملا- اس نے پوچھا یہ کون ہے؟ پہلے تو ٹالنے کی کو شش کی گئی مگر اس کے اصرار پر آخر بتایاگیا کہ یہ ایک بیمار ہے جسے شہر سے نکالا گیا ہے۔یہ بات سن کر اس پر اتناثر ہوا کہ وہ وہیں سے واپس