انوارالعلوم (جلد 7) — Page 587
۵۸۷ ہوئے بلکہ ان کو بھی احیاء موتی کی طاقت دی گئی` اگر یہ طاقت آپ کے ذریعے اوروں کو نہ ملتی تو یہ شبہ رہتا کہ شاید آپ کے دماغ کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ آپ پر وہ علوم کھولے جاتے ہیں جو آپ بیان کرتے ہیں اور آپ وہ نظارے دیکھ لیتے ہیں جو اپنے وقت پر پورے ہو جاتے ہیں اور آپ کی توجہ میں وہ تاثیر پیدا ہو گئی ہے جس سے آپ کی خواہشات برنگ دعا پوری ہو جاتی ہیں مگر نہیں آپ اس خزانے کو اپنے ساتھ ہی نہیں لے گئے بلکہ جو لوگ سچے طور پر آپ کے ساتھ تعلق کے نتیجے میں اللہ تعالیٰٰ اپنے علوم کی بارش دلوں پر نازل کرتا ہے اور اس وقت آپ کی جماعت میں سے بہت سے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مطالب قرآن کریم کے بیان کرنے میں ایک تیز رو گھوڑے سے زیادہ تیز ہیں اور جن کے بیان میں وہ تاثیر ہے کہ شکوک وشبہات کی رسیاں ان کی ایک ہی ضرب سے کٹ جاتی ہیں وہ قرآن جو لوگوں کے لیے ایک سر بمہر لفافہ تھا ہمارے لئے کھلی کتاب ہے- اس کی مشکلات ہمارے لئے آسان کی جاتی ہیں اور اس کی باریکیاں ہمارے لئے ظاہر کر دی جاتی ہیں` کوئی دنیا کا مذہب یا خیال نہیں جو اسلام کے خلاف ہو اور جسے اللہ تعالیٰٰ کے فضل سے ہم صرف قرآن کریم کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دیں اور کوئی آیت ایسی نہیں جس پر کسی علم کے ذریعے سے کوء اعتراض وارد ہوتا ہو اور اللہ تعالیٰٰ کی مخفی وحی ہمیں اس کے جواب سے آگاہ نہ کر دے- اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام یا کشوف کا ہونا بھی آپ تک محدود نہیں رہا بلکہ آپؑ کے ذریعے زندہ ہونے والوں میں سے بہت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ الہام کرتا ہے اور رویا دکھاتا ہے جو اپنے وقت پر پوری ہو کر ان کے اور ان کے دوستوں کے ایمان کو تازہ کرنیوالی ہوتی ہین وہ ان سے کلام کرتا ہے اور ان پر اپنی مرضی کی راہیں کھولتا ہے جس سے ان کو تقویٰ کے راستوں پر چلنے میں مدد ملتی ہے اور ان کا دل قوی ہوتا ہے اور حوصلہ بڑھتا ہے- دعاؤں کی قبولیت اور نصرت الٰہیہ کے نزول کے معاملہ میں بھی حضرت اقدسؑؑ کا فیض جاری ہے اور آپؑ کے ذریعے سے زندہ ہونے والے لوگ اس زندگی بخش طاقت کو اپنے اندر محسوس کرتے ہیں- اللہ تعالیٰٰ اس جماعت کے اکثر افراد کی دعائیں دوسرے لوگوں سے زیادہ سنتا ہے اور اپنی نصرت ان کے لیے نازل کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے اور ان کی محنتوں کے اعلیٰ ثمرات پیدا کرتا ہے اور ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے غیرت دکھاتا ہے-