انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 572

۵۷۲ محبت کرنے لگے گا- ان دونوں آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا سچا عشق اور اس کی سچی محبت اور اس کے رسول کے عشق اور اس کی محبت کا ہمیشہ یہ نتیجہ ہوا کرتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے جا ملتا ہے اور اس کا محبوب ہو جاتا ہے پس اس امت کے افراد کی صداقت کا یہ بھی ایک معیار ہے کہ ان کے دل عشق الٰہی سے پر ہوں اور اتباع رسول ان کا شیوہ ہو اور اس معیار کے مطابق بھی حضرت اقدسؑ مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی صداقت روز روشن کی طرح ثابت ہے- محبت کا مضمون ایک ایسا مضمون ہے کہ مجھے اس پر کچھ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں ہر ملک کے شاعر اس کی کیفیات کو غیر معلوم زمانے سے بیان کرتے چلے آئے اور تمام مذاہب اس ر ایمان اور وصول الی اللہ کی بنیاد رکھتے چلے آئے ہیں` مگر سب شاعروں کے بیان سے بڑھ کر کامل محبت کی مکمل تشریح وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے یعنی قل ان کان اباء کم ابناء کم واخوانکم وازواجکم وعشیر تکم واموال اقتر فتموھا وتجارہ تخشون کساد ھاو مسکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ وجھاد فی سبیلہ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہ واللہ لایھدی القوم الفسقین )توبہ ع۳(24: کہدے کہ اگر تمہارے باپ دادے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں یا تمہارے خاوند اور تمہارے رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے بگڑ جانے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں زیادہ پیارے ہیں تو تم کو اللہ تعالیٰ سے کوئی محبت نہیں تب تم اللہ تعالیٰٰ کے عذاب کا انتظار کرو اور اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کو کبھی اپنا رستہ نہیں دکھاتا` یعنی کامل محبت کی علامت یہ ہے کہ انسان اس کی خاطر ہر ایک چیز کو قربان کر دے- اگر اس بات کے لیے وہ تیار نہیں تو منہ کی باتیں اس کے لیے کچھ بھی مفید نہیں` یوں تو ہر شخص کہدیتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے اور اس کے رسول سے محبت ہے بلکہ مسلمان کہلانے والا کوئی شخص بھی نہ ہوگا جو یہ کہتا ہو کہ مجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت نہیں ہے` مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس اقرار کا اثر اس کے اعمال پر- اس کے جوارح پر اور کے اقوال پر کیا پڑتا ہے وہی لوگ جو رسول اللہ ﷺکی محبت میں اپنے آ کو سرشار بتاتے ہیں اور آپؑ کی تعریف میں نظمیں پڑھتے اور سُنتے رہتے ہیں بلکہ بعض تو خود نعتیں کہتے بھی ہیں آپؑ کے احکام کی