انوارالعلوم (جلد 7) — Page 545
۵۴۵ تعالیٰ نے خود رحم کر کے اس کے زور کو توڑ دینے کا وعدہ کیا اور آپ کو بتایا گیا کہ طاعون چلی گئی بخار رہ گیا چنانچہ اس الہام کے بعد طاعون کا زور ٹوٹ گیا اور بخار کا شدید حملہ پنجاب میں ہوا جس سے قریباً کوئی گھر خالی نہیں رہا اور سرکاری رپورٹوں میں تسلیم کیا گیا کہ بخار کا یہ حملہ غیر معمولی تھا- آٹھویں پیشگوئی زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی جو سب اہل مذاہب پر حجت ہوئی اور جس سے ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ زمین کی گہرائیوں پر بھی ویسی ہی حکومت رکھتا ہے جیسی کہ اس کی سطح کے اوپر رہنے والی چیزوں پر اب میں ایک پیشگوئی ان پیشگوئیوں میں سے پیش کرتا ہوں جو اس امر کو ظاہر کرنیوالی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا تصرف زمین کے اندر بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ زمین کے اوپر- یہ پیشگوئی اس زلزلہ عظیمہ کے متعلق ہے جو پنجاب میں ۴ اپریل ۱۹۰۵ء کو آیا اور اس کے ذریعے سے بھی کل ادیان کے پیروؤں پر صداقت اسلام اور صداقت مسیح موعود کے متعلق حجت قائم ہوئی۔اس زلزلے کے متعلق حضرت اقدسؑ مسیح موعود ؑنے یہ الہام شائع کئے تھے- ’’زلزلہ کا دھکا-‘‘ عفت الدیار محلھا ومقامھا یعنی ایک خطرناک زلزلہ آئے گا جس سے لوگوں کی مستقل سکونت کے مکانات بھی تباہ ہو جائیں گے اور عارضی سکونت کے کیمپ بھی تباہ ہو جائیں گے- یہ الہامات سلسلہ احمدیہ کے متعدد اخبارات میں اسی وقت شائع کر دئیے گئے اور ان الہامات کا اپنے ظاہر لفظوں میں پورا ہونا ایسا بعید از قیاس تھا کہ سمجھا گیا شائد اس سے طاعون کی سختی مراد ہو` مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ اور مقدر تھا` کانگڑے کی آتش فشاں پہاڑی جو مدتوں سے بالکل بے ضرر چلی آتی تھی اور جس کی آتش فشانی تو ہم پرست ہندوؤں سے ایک دیوی کا