انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 527

۵۲۷ اس کے مددگار اور نائب بنے تھے- پس ایسے شخص کی نسبت یہی خیال ہو سکتا ہے کہ اس کو مسیحیت پر کامل یقین تھا اور یہ کہ وہ مسیحیت کی اس قدر تائید کرنے اور اس کا سب سے بڑا مناظر قرار پانے کے بعد مسیح کی خدائی کا ایک منٹ کے لیے بھی منکر نہ ہوگا اور کبھی اسلام کی معجزانہ طاقت کا خیال اپنے دل میں نہیں آنے دے گا اور یہ بات کہ اس صورت میں دو پندرہ ماہ میں مر جاوے گا گو اپنی ذات میں شاندار ہے مگر پھر بھی ایک پینسٹھ سال کی عمر کے آدمی کی نسبت شبہ کیا جا سکتا تھا کہ شاید اس کی عمر ہی پوری ہو چکی ہو مگر ان کے مقابلے میں دوسری صورت کے دونوں پہلو زیادہ شاندار ہیں یعنی یہ کہ اگر وہ رجوع کر لے گا تو پندرہ ماہ کے اندر ہاویہ موت میں نہیں گرایا جاوے گا- اس صورت کا پہلا پہلو بھی کہ آتھم رجوع کر لے اس بات سے کہ وہ اپنی ضد پر قائم رہے زیادہ شاندار ہے کیونکہ کسی انسان کی موت تو انسان کی موت موت تو انسانوں کے ہاتھں سے بھی آسکتی ہے مگر کسی کو پندرہ ماہ تک زندہ رکھنا کسی کے اختیار میں نہیں ہے پس اگر دوسری صورت پیشگوئی کی وپری ہوتی تو وہ پہلی صورت کے پورے ہونے کی نسبت بہت شاندار ہوتی اور اللہ تعالیٰ نے جس کے آگے کوئی بات ناممکن نہیں اس دوسرے پہلو کو ہی جو زیادہ مشکل تھا اختیار کیا` یعنی اس نے اپنا رعب اس کے دل پر ڈال دیا اور پہلا اثر اس پیشگوئی کا یہ ظاہر ہوا کہ آتھم نے عین مجلس مباحثہ میں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ وہ رسول کریم ﷺکو دجال نہیں کہتا ہے اس پیشگوئی کے شائع ہنے کے بعد تمام ہندوستان کی نظریں اس طرف لگ گئیں کہ دیکھئیے اس کا کیا نتجہ نکلتا ہے مگر اللہ تعالیٰٰ نے پندرہ ماہ کا انتظار نہیں کروایا اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے وقت سے ہی آتھم کی حالت بدلنی شروع ہو گئی اور اس نے مسیحیت کی تائید میں کتب ورسالہ جات لکھنے کا کام بالکل بند کر دیا` ایک مشہور مبغ اور مصنف کا اپنے کام کو بالکل چھوڑ دینا اور خاموش ہو کر بیٹھ جانا معمولی بات نہ تھی بلکہ بین دلیل تھی اس امر کی کہ اس کا دل محسوس کرنے لگ گیا ہے کہ اسلام سچا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے میں اس نے غلطی کی ہے مگر خاموشی پر ہی اس نے بس نہ کی بلکہ ایک روہانی ہاویہ میں گرایا گیا` یعنی اس خیال کا اور کہ اس نے اس مقابلے میں غلطی کی ہے اس قدر گہرا ہوتا چلا گیا کہ اسے عجیب عجیب قسم کے نظارے نظر آنے لگے جیسا کہ اس نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے بیان کیا کبھی تو اسے سانپ نظر آتے جو اسے کاٹنے کو دوڑتے کبھی کتے اسے کاٹنے کو دوڑتے اور کبھی نیزہ بردار لوف اس کے خیال میں اس پر حملہ آور ہوتے` حالانکہ نہ تو سانپ اور کتے اس طرح سدھائے جا سکتے ہیں