انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 33

۳۳ اٹھالی۔تلوار کھینچ کر اس نے آپؐ کو جگایا اور کہنے لگابتا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے لیٹے لیٹے فرمایا مجھے اللہ بچاسکتا ہے۔اس آواز کا اثر اس پر بجلی کی طرح ہوا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔آپؐ نے اس کا امتحان لینے کے لئے کہ میرے الفاظ کا اس پر بھی کچھ اور ہوا ہے یا نہیں۔تلوار اٹھائی اور پوچھابتا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ اس نے کہہ دیا آپؐ ہی بچائیں تو بچا سکتے ہیں۔گویا اس نے یہ سن کر بھی کچھ نہ سیکھا۔آپؐ نے اسے کہایہ نہ کہو۔خداہی تم کو بھی بچاسکتا ہے اور چھو ڑدیا۔ایک شخص نے مجھے لکھا کہ میرے حساب کی پڑتال ہونے والی ہے اور کچھ ایسی فرو گذاشتیں ہو گئیں ہیں کہ ان کی وجہ سے مجھے بہت سا روپیہ بھرنا پڑے گا حالانکہ واجب الاداء نہیں ہے آپ دعا کریں کہ خدا تعالی ٰمجھے بچائے۔میں نے اس کے لئے دعا کی اور مجھے معلوم ہوا کہ دعا قبول ہوگئی ہے۔اور میں نے اس کو لکھ دیا کہ مایوس نہ ہو خداتعالی ٰتمہیں بچالے گا۔پھر جب تحقیقات مکمل ہو چکیں اور اس کے ذمہ روپیہ نکالا گیاتو اعلیٰ افسرنے بلا کاغذات کے دیکھنے کے لکھ دیا کہ اس تحقیقات کو داخل دفتر کر دو۔پس مایوس کبھی نہ ہونا چاہیے خواہ کیسی مشکلات میں گھر جاؤ – ذاتی گناہ بندوں اور خدا سے بھی تعلق رکھتے ہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ذاتی گناہ جو میں نے بتائے ہیں وہ نمبر۲ اور نمبر۳ کے بھی گناہ ہوتے ہیں یعنی وہ دوسروں سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور خدا تعالی ٰکے متعلق بھی گناه ہوتے ہیں۔مثلاً جوشخص کوئی ذاتی گناہ کرتا ہے وہ ایک رنگ میں دوسروں کے متعلق بھی گناہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کابھی۔جیسے متعدی امراض ہوتی ہیں اگر ایک کو طاعون ہو تو اس کی ذات کو یہ مرض ہوتا ہے مگر اس کی وجہ سے دوسروں کو بھی طاعون ہو سکتی ہے۔اسی طرح اگر ایک شخص میں عیب ہو تو اس کے عیب کا اثر ہم پر ہمارے بچوں اور بیویوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔پس ذاتی گناه کرنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ دوسروں کو کیا؟ میں اپنی ذات کے متعلق یہ گناہ کرتا ہوں۔دوسروں کو بھی کچھ ہے کیونکہ اس کے ذاتی گناہ کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔اکتسابِ عملِ خیر اس وقت تک جو کچھ میں نے بیان کیا ہے وہ مختلف قسم کے گناہوں سے بچنے کے متعلق ہے اور یہ روحانیت کے لئے ضروری ہے۔اب دوسری بات بیان کرتا ہوں جو روحانیت پر اثر ڈالنے والی ہے اور وہ اکتسابِ عملِ خیرہے۔