انوارالعلوم (جلد 7) — Page 509
۵۰۹ سوراخ کر دئیے جائیں گے- )۴واذا العشار عطلت اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی یعنی ایسا زمانہ آجائے گا کہ نئی سواریوں کی وجہ سے اونٹوں کی وہ قدر نہ رہے گی جو اب ہے واذا الوحوش حشرت اور جب دینی علوم سے لوگوں کو ناواقفیت ہو گی اور وہ مثل وحشیوں کے ہو جائیں گے اور اسی طرح وہ اقوام جو پہلے وحشی سمجھی جاتی تھیں جیسے یورپ کے باشندے کہ آج سے چھ سات سو سال قبل جس وقت الیشیائی لوگ نہایت مہذب اور ترقی یافتہ تھے یہ لوگ ننگے پھرتے تھے- دنیا میں پھیلا دئے جائیں گے اور دنیا کی حکومتوں پر قابض ہو جائیں گے اور یہ بھی کہ اس زمانے میں کچھ وحشی اقوام ہلاک کر دی جائیں گی کہ ان کا نام ہی باقی نہ رہ جائے گا اور یہ عربی زبان کا محاورہ ہے کہ کہتے ہیں حشر الوحوش ای اھلکت ایسا ہی اس زمانے میں ہوا ہے کہ آسٹریلیا اور امریکہ کے اصلی باشندے کہ ان کو کہتے بھی وحشی ہی ہیں- آہستہ آہستہ اس طرح ہلاک کر دئیے گئے ہیں کہ اب ان اقوام کا ان میں نشان تک نہیں ملتا- پھر فرمایا کہ )۶( واذا الجحار سجرت جب دریاؤں کو پھاڑا جائے گا یعنی ان میں سے نہریں نکالی جائیں گی اور )۷( واذا النفوس زوجت اور جب لوگ آپس میں جمع کر دئے جائیں گے یعنی آپس کے تعلقات کے ایسے سامان نکل آئیں گے کہ دور دور کے لوگ آپس میں ملا دئیے جائیں گے جیسے آلات ٹیلیفون ہیں کہ ہزاروں میل کے لوگوں کو آپس میں ملا کر باتیں کروا دیتے ہیں یاریل اور تار اور ڈاک کے انتظام ہیں کہ ساری دنیا کو انہوں نے ایک شہر بنا دیا ہے )۸( واذا الموء دہ سئلت بای ذنب قتلت اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکیاں یا عورتیں پوچھی جائیں گی- یعنی مذہبی طور پر انسان کا زندہ گاڑ دینا خواہ جائز ہو مگر قوانین حکومت اس کی اجازت نہ دیں گے اور صرف مذہبی جواز کا فتوی پیش کر دینا قبول نہ کیا جائے گا- جیسے کہ اس زمانہ سے پہلے زمانوں میں ہوتا چلا آیا ہے واذا الصحف نشرت اور جب کہ کتب اور اخبارات اور رسالہ جات پھیلائے جائیں گے جیسا کہ آجکل ہے کہ اخبارات اور کتب کی کثرت کو دیکھ کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے )۱۱( واذا السماء کشطت اور جب آسمان کا چھلکا اتارا جائے گا- یعنی آسمانی علوم کا ظہور ہو گا علم ہئیت کی ترقی کے ذریعے سے بھی اور علوم قرآنیہ کے اظہار اور اشاعت کے ذریعے سے بھی )۱۲( واذا الجحیم سعرت اور دوزخ بھڑکا دی جائے گی یعنی نئے نئے علوم ایجاد ہونگی جن کی وجہ سے لوگوں کو دین سے