انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 502

۵۰۲ چونکہ حضرت اقدسؑ مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام آنحضرت ﷺکے شاگرد اور آپ کی ظل تھے اور آپ ہی کے نور سے حصہ لینے والے تھے اس لیے اللہ تعالیٰٰ نے آپ کو بھی اس خوبی سے حصہ دیا اور آپ کو بھی کلام کی فصاحت عطا فرمائی میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ حضرت اقدسؑؑ کسی مشہور مدرسے کے پڑھے ہوئے نہ تھے` معمولی لیاقت کے استاد آپ کی تعلیم کے لیے رکھے گئے تھے جنہوں نے عام درسی کتب کا ایک حصہ آپ کو پڑھا دیا تھا- آپؑ کبھی عرب وغیرہ ممالک کی طرف بھی نہیں گئے تھے اور نہ آپؑ ایسے شہروں میں رہے تھے جہاں عربی کا چرچا ہو دیہاتی زندگی اور معمولی کتب پڑھنے سے جس قدر علم انسان کو حاصل ہو سکتا ہے اسی قدر آپؑ کو حاصل تھا- جب آپؑ نے دعویٰ کیا اور دنیا کی اصلاح کی طرف توجہ کی تو آپؑ کے دشمنوں کی نظر سب سے پہلے ان حالات پر پڑی اور انہوں نے سوچا کہ یہ سب سے بڑا حملہ ہے جو ہم آپؑ کی ذات پر کر سکتے ہیں اور یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ آپ ایک منشی آدمی ہیں اردو نوشت وخواند میں چونکہ مہارت ہو گئی اور لوگوں میں بعض مضامین اچھی نظر سے دیکھے گئے تو خیال کر لیا کہ اب میں بھی کچھ بن گیا اور دعویٰ کر دیا- آپؑ عربی سے ناواقف ہیں اس لیے علوم دینیہ میں رائے دینے کے اہل نہیں اس اعتراض کو ہر مجلس اور تحریر میں پیش کیا جاتا اور لوگوں کو بدظن کیا جاتا تھا- ان لوگوں کا یہ اعتراض تو کہ آپؑ عربی زبان سے ناواقف تھے بالکل جھوٹا تھا کیونکہ آپؑ نے عام درسی کتب پڑھی تھیں مگر یہ سچ تھا کہ آپؑ کسی بڑے عالم سے نہیں پڑھے تھے اور نہ باقاعدہ کسی پرانے مدرسہ کے سند یافتہ تھے اس لیے ملک کے بڑے عالموں میں شمار نہ ہوتے تھے اور نہ مولوی کی حیثیت آپؑ کو حاصل تھی- جب اس اعتراض کا بہت چرچا ہوا اور مخالف مولویوں نے وقت اور بے وقت اس کو پیش کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک رات میں چالیس ہزار مادہ عربی زبان کا سکھا دیا اور یہ معجزہ عطا فرمایا کہ آپؑ عربی زبان میں کتب لکھیں اور وعدہ کیا کہ ایک ایسی فصاحت آپؑ کو عطا کی جاوے گی کہ لوگ مقابلہ نہ کر سکیں گے- چنانچہ آپؑ نے عربی زبان میں ایک مضمون لکھ کر اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شائع کیا اور مخالفوں کو اس کے مقابلے میں رسالہ لکھنے کے لیے بلایا` مگر کوئی شخص مقابلہ پر نہ آسکا- اس کے بعد متواتر آپؑ نے عربی کتب لکھیں جو بیس سے بھی زیادہ ہیں اور بعض کتب کے ساتھ دس دس ہزار روپے کا انعام ان لوگوں کے لیے مقرر کیا جو