انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 496

۴۹۶ نے کسی کا حکم پوری طرح مانا اس کی نسبت کہتے ہیں کہ اس نے سجدہ کیا- پس آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دینے کے یہ معنے ہیں کہ ملائکہ اس کی فرمانبرداری کریں اور ملائکہ کی فرمانبرداری بندوں کے لئے یہ ہے کہ ان کے کام میں مدد دیں اور یہ حکم آدم سے خاص نہیں` بلکہ ہر نبی جو دنیا میں آتا ہے اس کے لیے یہی حکم دیا جاتا ہے بلکہ اگر کسی شخص کے لئے ملائکہ کو اس قسم کا حکم نہ دیا جائے تو وہ مامور کہلا ہی نہیں سکتا- ہمارے آنحضرتﷺکی زندگی میں اس قسم کے بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ ملائکہ نے آپؐ کے کام میں آپؐ کی مدد کی- جیسے بدر کے موقع پر کہ ملائکہ نے کفار کے دلوں میں رعب ڈالا- یا آپؐ کے کنکر پھینکنے پر آندھی زور سے چلی- یا احزاب کے موقع پر آندھی نے ایک سردار کی آگ بجھا دی جس سے لشکر کفار پر اگندہ ہو گیا- یا مثلاً ایک یہودیہ کے زہر دینے پر اس کی شرارت آپ پر ظاہر ہو گئی ملائکہ کی فرمانبرداری کا اظہار زیادہ تر قوانین طبیعہ کے ذریعے سے ہوتا ہے وہ چونکہ قوانین طبیعہ کا سبب اول ہیں وہ ایسے مواقع پر جبکہ نبی اور اس کے دشمنوں کا مقابلہ ہوتا ہے قوانین طبیعہ کو اس کی تائید میں لگا دیتے ہیں اور یہی سبب ہوتا ہے کہ جب کہ ظاہری اسباب نبیوں کے مخالف ہوتے ہیں نتیجہ ان کے حق میں نکل آتا ہے اور یہ بات ان کے صادق ہونے کی دلیل ہوتی ہے- یہ ملائکہ کی مدد حضرت مسیح موعودؑ کو بھی حاصل تھی- آپؑ کی تائید میں بھی ملائکہ لگے رہتے تھے اور عجیب عجیب رنگ میں آپ کو مشکلات سے بجاتے تھے اور قوانین طبیعہ کو آپ کی نصرت میں لگا دیتے تھے ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ آپ اور چند اور لوگ جن میں ہندو` مسلمان مختلف مذاہب کے لوگ شامل تھے ایک مکان میں سو رہے تھے- آپ کی اچانک آنکھ کھل گئی اور آپ نے اپنے دل میں یہ شور محسوس کیا کہ مکان گرنے لگا ہے- مکان کے گرنے کی بظاہر کوئی علامت نہ تھی- صرف چھت میں سے اس قسم کی آواز آرہی تھی جیسے کہ لکڑی کو کیڑے کے کاٹنے سے آتی ہے- آپ نے اپنے ساتھیوں کا جگایا اور کہا کہ وہ مکان کو خالی کر دیں مگر انہوں نے کچھ پروا نہ کی اور یہ کہ کر کہ صرف آپؑ کا وہم ہے ورنہ کوئی خطرہ نہیں- پھر سو گئے کچھ دیر کے بعد آپؑ نے پھر وہی شور محسوس کیا اور پھر ان کو جگایا اور بہت زور دیا۱ اس پر ان لوگوں نے آپ ؑکا لحاظ کیا اور اٹھ کھڑے ہوئے مگر شکایت کی کہ آپؑ نے اپنے وہم کی پیروی میں لوگوں کو خواہ مخواہ دکھ دیا- آپؑ نے اپنے دل میں محسوس کیا کہ یہ مکان صرف میرا انتظار