انوارالعلوم (جلد 7) — Page 494
۴۹۴ دونوں قسم کے لوگوں کے نمونے دکھا کر حضرت اقدسؑ علیہ السلام کے فنافی الرسول ہونے کا ثبوت دیا اور یہ بھی ثابت کیا کہ یہ سب سامان اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا محض اتفاق نہ تھا` کیونکہ اگر اتفاق ہوتا تو ہر فریق سے اس کے اپنے مسلمہ معیار کے مطابق کیوں سلوک ہوتا- علاوہ اس قسم کی ہلاکتوں کے جو دعا ہائے مباہلہ یا بددعاؤں کے نتیجہ میں آپ کے دشمنوں کو پہنچیں اور کئی طریق پر بھی اللہ تعالیٰٰ نے آپ کے دشمنوں کو ہلاک کیا` یعنی آپؑ کے زمانے میں قسم قسم کے عذاب نازل کئے اور اس قدر مصائب میں لوگوں کو مبتلا کیا کہ ہر ایک دل کہہ رہا ہے کہ اس قدر تباہی اس سے پہلے دنیا میں کبھی نہین آئی تھی اس کی تفصیل کی اس جگہ ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایسی بات ہے کہ ہر ملک اور ہر قوم اس پر شاہد ہے کونسا ملک ہے جہاں طاعون یا زلزلہ یا انفلوئنزا یا قحط یا جنگ نے بربادی نہیں کی اور شہروں اور علاقوں کو ویران نہیں کیا- افراد پر جو عذاب نازل ہوئے ہیں ان میں سے بعض اس قسم کے بھی ہوتے تھے کہ جو لوگ آپ پر کوئی اتہام لگاتے تھے اسی بلا میں خود مبتلا ہو جاتے تھے مثلاً بعض لوگ کہہ دیتے تھے کہ آپ کو نعوذ باللہ برص ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو برص بیماری میں مبتلا کر دیتا اور بعض لوگ آپ کی نسبت یہ مشہور کر دیتے کہ آپؑ طاعون سے فوت ہو گئے ہیں یا ہوں گے تو وہ خود طاعون سے فوت ہو جاتے- ڈاکٹر عبدلاحکیم پٹیالے کے ایک میڈیکل افسر نے آپ کی نسبت پیشگوئی کی کہ پھیپھڑوں کی مرض سے فوت ہونگے وہ سل سے مرا- اس قسم کی سینکڑوں مثالیں ملتی ہیں- کہ جس شخص نے جو جھوٹ آپ پر باندھا وہی اس پر الٹ پڑا اور ایسے قہری نشان اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید میں دکھائے کہ ہر شخص جو تعصب سے خالی ہو کر ان کو دیکھتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے شدید العقاب ہونے پر کامل ایمان حاصل ہوتا ہے اور وہ اس امر کے ماننے پر مجبور ہوتا ہے کہ حضرت اقدسؑ اللہ تعالیٰ کے راستباز بندے تھے ورنہ کیا سبب ہے کہ آپ کے لئے وہ اس قدر غیرت دکھاتا تھا اور اب بھی دکھاتا ہے-