انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 471

۴۷۱ روایات کے بالکل برخلاف ہے اور جس قدر اس قسم کی باتیں آپؐ کی نسبت یا دوسرے انبیاء کی نسبت مشہور ہیں وہ ایا تو منافقوں کے جھوٹے اتہامات کے بقیہ یاد گاریں ہیں، یا کلام الٰہی کے غلط اور خلافِ مراد معنی کرنے سے پیدا ہو ئی ہیں۔آپؐ نے نہایت وضاحت سے قرآن کریم سے بدلائل قاطعہ ثابت کر دیا کہ درحقیقت اس قسم کے خیالات اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں اور اصل بات تو یہ ہے کہ یہ خیالات مسلمانوں میں مسیحیوں سے آئے تھے کیونکہ مسیحیوں نے حضرت مسیحؑ کی خدائی ثابت کرنے کے لئے یہ رویہّ اختیار کر رکھا تھا کہ وہ سب نبیوں کی عیب شماری کرتے تھے تا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ چونکہ گناہوں سے اک صرف حضرت مسیحؑ ہیں، اس لئے ضرور وہ انسانیت سے بالاطاقتیں رکھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں بھی سب نبیوں کے عیب تو گنائے جاتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک اتہامات لگائے جاتے ہیں مگر حضرت مسیحؑ کو بالکل بے گناہ قرار دیا جاتا اور آپ ہی کو نہیں بلکہ آپ کی والدہ کو بھی بالکل پاک قرار دیا جاتا ہے کیا یہ اس امر کا کافی ثبو نہیں کہ یہ جھوٹے افسانے اور قابل نفرت قصے مسلمانوں میں مسیحیوں سے ہی آئے ہیں جن کے بد اثر کو یا تو بو جہ ایک جگہ رہنے کے مسلمانوں نے قبول کر لیا، یا بعض شریر الطبع لوگوں نے بظاہر اسلام قبول کر کے اس قسم کے مخزیات اور باطل باتیں مسلمانوں میں پھیلانی شروع کر دیں جنہین ابتداء ً تو ہمارے مؤرخوں اور محدثوں نے اپنی مشہور دیانتداری سے کام لیکر صحیح روایات کے ساتھ جمع کر دیا تھا تا کہ مخالف اور موافق سب روایات لوگوں تک پہنچ جائیں مگر بعد کو آنے والے ناخلف لوگوں نے جو نور نبوت سے خالی ہو چکے تھے ان شیطانی وساوس کو تو قبول کر لیا جو قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف تھے اور ان صحیح روایتوں کو نظر انداز کر دیا جو انبیاء کی عصمت اور ان کی پاکیز گی پر دلالت کر تی تھیں اور ان وساوس کے لئے بمنزلہ تیز تلوار کے تھیں جس کی ضرب کو وہ قطعاً برداشت نہیں کر سکتے تھے۔مگر الحمد للہ کہ حضرت اقدسؑؑ نے اس گندگی کو ظاہر کر دیا اور انبیاء کے صحیح مرتبہ کو پھر قائم کر دیا اور ان کی عزت توں کی حفاظت کی، خصوصاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور آپؐ کی پاکیزگی کو تو نہ صرف الفاظ میں بیان کیا، بلکہ ایسے زبردست دلائل سے ثابت کیا کہ دشمن کا منہ بھی بند ہوگیا۔بقول حضرت اقدسؑ ؑ ؎ ہر رسُولے آفاتِ صدق بود ہر رسُولے بود مہرِ انورے