انوارالعلوم (جلد 7) — Page 466
۴۶۶ بیان کی گئی ہیں نہایت واضح دلائل سے ردّ کر کے بتایا کہ قرآن کریم جیسی جامع و مانع کتاب تو دنیا بھر میں نہیں مل سکتی یہ تم لوگوں کا اپناقصور تھا کہ اس پر غور کرنا تم نے چھوڑ دیا اور اس طہارت کاحاصل نہ کیا جس کے بغیراس کے مطالب کا القاء انسان کے قلب پر نہیں ہوتا کیونکہ لَایَمَسَّہٗ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ (واقعہ ع ۳) کا ارشاد ہے۔پس اپنی کوتاہ فہمی کو قرآن کریم کی طرف منسوب نہ کرو اور پھر آپ نے تمام مسائل دینیہ کو قرآن کریم سے ہی استنباط کر کے پیش کیا اور دشمنان اسلام کے ہر اعتراض کو قرآن کریم سے ہی رد کر کے دکھا دیا اور ثابت کر دیا کہ علوم روحانیہ اور دینیہ اور اخلاقیہ کے متعلق قرآن کریم سے زیادہ واحض اور مفصل کتاب اور کوئی نہیں، اس کے الفاظ مختصر ہیں، لیکن مطالب ایک بحر ذخّار کی طرح ہیں کہ ایک ایک جملہ بیسیوں بلکہ سینکڑوں مطالب رکھتا ہے اور اس کے مضامین ہر زمانے کے سوالات اور شکوک کو حل کرتے ہیں اور ہر زمانے کی ضرورت کو وہ پورا کرتا ہے۔آپؑ اس خیال کو بھی ردکیا کہ قرآن کریم تقدیم و تاخیر سے بھرا پڑا ہے اور بتایا کہ قرآن کریم کے الفاظ اپنی اپنی جگہ پر ایسے واقع ہیں کہ ان کو ہرگز سے ہلایا نہیں جاسکتا، لوگ اپنی نادانی سے اس میں تقدیم و تاخیر سمجھ لیتے ہیں ورنہ اس میں جو کچھ جس جگہ رکھا گیا ہے وہی وہاں درست بیٹھتا ہے اور اسی جگہ پر اس کے رکھنے سے وہ خوبی پیدا ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے اور آپ نے قرآن کریم کے مختلف مقامات کی تشریح کر کے اس مضمون کی صحت کو ثابت کیا اور ان لوگوں کے وسوسہ کو رد کیا جو اپنی کم علمی کی وجہ سے تقدیم و تاخیر کے چکر میں پڑے ہوئے تھے۔آپ نے اس بات پر بھی جرح کی کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اسرائیلی قصوں کو بھردیا گیا ہے اور بتا یا کہ محض بعض واقعات میں مشابہت کا پیدا ہو جانا یہ ثابت نہیں کر تا کہ درحقیقت یہ دونوں باتیں ایک ہیں، قرآن کریم اگر بعض واقعات کو مختلف الفاظ میں بیان کرتا ہے تو اس کی یہی معنے ہیں کہ وہ ان واقعات کو اس صورت میں قبول نہیں کرتا جس صورت میں افسانہ گو ان کو بیان کرتے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ درحقیقت قرآن کریم افسانے کی کتاب ہے ہی نہیں وہ جو واقعات پچھلے بھی بیاب کرتا ہے وہ آگے کی پیشگوئیاں ہوتی ہیں اور ان کے بیان کر نے سے یہ غرض ہوتی ہے کہ اسی طرح معاملہ آئندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپؐ کی امت کے بعض افراد سے ہو نیووالا ہے پس اس کی تفسیر میں یہودیوں کے قصوں اور افسانوں کو بیان کر نا اس کے