انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 424

۴۲۴ دعوۃ الامیر تیسری دلیل نفس ناطقہ آفتاب آمد دلیل آفتاب اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ زمانہ پکار پکارکراس وقت ایک مصلح کوطلب کر رہاہے اوریہ کہ رسول کریم ﷺکی شہادت سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت کامصلح مسیح موعود اور مہدی مسعود کے سوا اور یہ کہ چونکہ مسیح موعود ہونیکے مدعی بقیہ حاشیہ صفحہ اور اگر یہ دجال ہے تو اس کامارنامسیح کیلئے مقدر ہے تو اسے مار نہیں سکتا اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کے متعلق جس قدر اخبار ہیں وہ تعبیرطلب ہیں کیونکہ جب حضرت عمر ؓنے ابن صیاد کو دجال قرار دیا تو رسول کریم ﷺ نے ان کو منع نہیں کیا حالانکہ آپ نے خود دجال کی یہ علامتیں بتائی تھیں کہ اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہوا ہو گا اور یہ کہ وہ کانا ہوگا اور یہ کہ وہ مدینہ میں نہیں آسکے گا "یہ تینوں باتیں ابن صیاد میں نہیں پائی جاتی تھیں وہ کانا نہ تھا اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہوا وہ سرے مومنوں کو تو الگ رہا خود رسول کریم ﷺ کو بھی نظر نہیں آیا اور وہ مدینے میں موجود تھا اگر دجال کی نسبت جس قدر اخبار تھیں وہ اپنی ظاہری شکل میں پوری ہونے والی تھیں تو کیوں رسول کریم ﷺنے ابن صیاد کے معاملے میں ترددّ ظاہر کیا اور نہیں بتایا کہ تو نے سنا نہیں میں کہہ چکا ہوں کہ دجال کانا ہو گا اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہو گا وہ مدینہ میں داخل نہ ہو سکے گا کیا آپؐ کا حضرت عمر ؓکے قول کو ردّنہ کرنا بلکہ تردّد کا اظہار کرنابتاتا نہیں کہ رسول کریم ﷺ اس امر کو جائز سمجھتے تھے کہ دجال کے متعلق جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ اصل الفاظ میں پوری نہ ہوں بلکہ کسی اور رنگ میں پوری ہو جائیں اور اگر رسول کریم ﷺدجال کے متعلق اخبار کو تعبیرطلب قراردیتے تھے تو کسی اور کا حق ہے کہ وہ واقعات سے منہ موڑ کر الفاظ کو پکڑ کر بیٹھ جائے اور ان کے معنوں اور مطلب پر غور نہ کرے۔منہ