انوارالعلوم (جلد 7) — Page 401
۴۰۱ دعوۃالامیر علامات قرب قیامت میں سے ایک ظہور فحش وتفحّش بھی ہے اور اسی طرح انس بن مالک سے مُسلم میں روایت ہے کہ اشراطِ ساعت میں سے ایک طہور زنا ہے اور بوہریرہ ؓ سے ابن مردویہ نے روایت کی ہے کہ اس وقت ولد الزنا کثرت سے ہو جائیں گے یہ سب قسمیں فحش کی ہم اس وقت دنیامیں موجود پاتے ہیں۔علاوہ بڑی بد کاری کے ہم دیکھتے ہیں کہ یورپین تہذیب نے ایسا رنگ اختیار کر لیا ہے کہ اسلام نے جن امور کو فحش قرار دیا ہے وہ اس کی سوسائٹی کے نزدیک تہذیب کا جز وبن گئے ہیں۔مثلاً غیر عورتوں کی کمروں میں ہاتھ ڈال کر ناچنا، عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف کرنی،غیر عورتوں کو ساتھ لیکر سیروں کو جانا وغیرہ وغیرہ۔اس زمانے سے پہلے ان باتوں کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔نہ عرب میں نہ کسی اور ملک میں ہندوستان باوجود سب آثار شرک کے اس فحش سے پاک تھا۔ایران باوجود عیش پسندی کی روایات کے اس فحش سے مبرّا تھا۔مسیحیت کا سہار ا رومی قوم باوجود اخلاقاً مُردہ ہونے کے اس قسم کی ہوا وہوس کی غلامی سے محفوظ تھی۔اگر آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تفصیلی نقشہ پہلے لوگوں کے سامنے بیان کر دیا جاتا تو وہ کبھی تسلیم نہ کرتے کہ کسی قوم کی قوم میں باوجو د دعوائے تہذیب یہ حرکات کی جاسکتیں اور تہذیب و شائستگی کا جز و سمجھی جاسکتی ہیں۔پہلے زمانے میں بھی ناچ اور تماشے ہوتے تھے، لیکن یہ کوئی تسلیم کر نے کے لئے تیار نہ تھا کہ شریف اور تمدن کی جڑ کہلانے والے خاندانوں کی بہو بیٹیاں اس فعل کو اپنا شُغل بنائیں گی اور یہ بات موجب فخر ہوگی اور عورت کی قدر و منزلت کو بڑھا دے گی اور اس کی شرافت میں کچھ نقص پیدا نہ ہو نے دے گی۔علاوہ اس فحش کے جو عام ہے بڑا فحش یعنی زنا بھی اس وقت کثرت سے ہے کہ اب وہ اکثر بِلاد میں جن میں مسیحیت کااثر ہے بطور ایک نفسانی کمزوری کے نہیں سمجھا جاتا ، بلکہ ایک طبعی فعل اور روز مرہ کا شغل خیال کیا جاتا ہے۔بیشک کنچنیاں پہلے زمانوں میں بھی ہوتی تھیں مگر یہ کس کے ذہن میں آسکتا تھا کہ کسی وقت حکومت عورتوں کو بڑی بڑی تنخواہیں دے کر فوجوں کے ساتھ رکھے گی تا فوجی سپاہیوں کی ضروریات پوری ہوں اور ان کو چھاؤنیوں سے باہر جانے کی تکلیف نہ ہو، کون یہ خیال کر سکتا تھا کہ عورت اور مرد کے تعلقات ایسے وسیع ہو جائیں گے کہ عورت کا مرد کے گھر پر جانا ایک اخلاقی گناہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ انسانی حریت کا ایک جزو قرار دیا جائے گا۔اور نکاح کو اس کی ذہنی غلامی کی علامت سمجھا جائے گا۔جیسا کہ آج فرانس اور امریکہ کے لاکھوں آدمیوں کا خیال ہے اور یہ بات کس کے ذہن میں آسکتی تھی کہ کسی وقت