انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 399

۳۹۹ دعوۃالامیر بعدلمبے لمبے وظیفے پڑھتے رہتے ہیں۔ایک علامت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان فرماتے ہیں کہ اس وقت قرآن اٹھ جائے گا اور صرف اس کا نقش باقی رہ جائے گا۔(مشکوٰۃ کتاب العلم الفصل الثالث صفحہ ۳۸مطبوعہ قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی۱۳۶۸ھ) یہ علامت بھی اس وقت پوری ہو چکی ہے۔قرآن کریم موجود ہے مگر اس پر غور اور تدبّر کوئی نہیں کرتا عجیب بات ہے کہ سوائے جماعت مسیح موعود علیہ السلام کے دنیا بھر میں قرآن کریم کہیں نہیں پڑھا جا تا۔بعض اچھے اچھے مولوی فقہ اور حدیث کے ماہر قرآن کریم کے ترجمہ سے تعلق نہیں رکھتے اور اس پر غور اور تدبّر کرنا حرام جانتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ چند پچھلے علماء نے جو معنے کلام الٰہی کے کر دئیے ہیں ان کے سوا اب کلام الٰہی میں کچھ باقی نہیں ہے۔حالانکہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تفسیر قرآن کا دروازہ کھُلا رہا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اب وہ بند ہو گیا ہو اور اس کے معارف کی کھڑکی بند کردی گئی ہو۔ایک علامت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخری زمانے کی نسبت بروایت ابن عباسؓ ابن مردویہ نے یہ بیان کی ہے کہ اس زمانے میں لوگ ایک طرف تو قرآن کریم سے بے توجہی کریں گے دوسری طرف اس کے ظاہری سنگھار اور آرائش میں ایسے مشغول ہوں گے کہ زری کے غلاف اس پر چڑھائیں گے۔(حجج الکرامۃ فی آثار القیامۃ صفحہ ۲۹۷مطبوعہ بھوپال۱۲۰۹ھ) یہ علامت بھی پوری ہو رہی ہے۔مسلمان قرآن کریم کے پڑھنے سے تو بالکل غافل ہیں اور اس کو کھول کر دیکھنا حرام سمجھتے ہیں ، لیکن زری کے غلاف چڑھا کر قرآن کریم گھروں میں انہوںنے ضرور رکھ چھوڑے ہیں اور اس کی ظاہری آرائش اس قدر کرتے ہیں کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں میں اس قسم کی آرائش کرنے کا ثبوت نہیں ملتا، حالانکہ وہ لوگ کیا بلحاظ تقویٰ او رکیا بلحاظ وجاہت دنیاوی ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر تھے۔ایک تغیر مسلمانوں کی اندرونی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت مساجد کو آراستہ کریںگے (کنزل العمال جلد ۱۴روایت ۳۹۷۲۶مطبوعہ حلب ۱۹۷۵ء) اور یہ تغیّر بھی اس وقت پایا جاتا ہے۔مسلمان دوسری اقوام کی نقل میں اپنی مساجد کو اس قدر آراستہ کرتے ہیں او ربیل بوٹے بناتے ہیں اور جھاڑ فانوس سے ان کو سجاتے اور خوبصورت پردے ان کی دیواروں پر لٹکاتے ہیں کہ بہ نسبت سادہ اسلامی عبادت گاہ کے بالفاظ حدیث وہ بُت خانوں کے زیادہ مشابہ ہیں۔(حجج الکرامۃ فی آثار القیامۃ صفحہ ۲۹۷مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ) ایک تغیّر اس زمانے کے متعلق آپ ؐنے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت عرب کے لوگ