انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 394

۳۹۴ دعوۃالامیر سے تغیرات جن کا پیدا کرناانسان کے اختیار میں نہیں اور وہ بطور علامات مہدی کے بیان کئے گئے ہیں ظاہر ہو جائیں تو اس وقت کو مہدی و مسیح کا زمانہ سمجھ لینے میں ہمارے لئے کوئی بھی مشکل نہیں۔اس وقت اگر بعض علامات ایسی معلوم ہوں جو اس وقت تک پوری نہیں ہوئیں تو ہمیں دوباتوں میں سے ایک کو تسلیم کرنا ہوگا، یا یہ کہ وہ علامات جو پوری نہیں ہوئیں ، علامات مہدی تھیں ہی نہیں بلکہ بعض بے رحم لوگوں کی دست اندازی کے سبب سے ان کو علاماتِ مہدی میں شامل کر دیا گیا تھا یا یہ کہ ان کے معنی سمجھنے میں ہم سے غلطی ہو گئی ہے درحقیقت وہ تعبیر طلب تھیں۔اس کے بعد میں یہ بیان کر دینا ضروی سمجھتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علامات مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانے کے متعلق بیان فرمائی ہیں ان پر ایک ادنیٰ تدبر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ فرداً فرداًمسیح و مہدی کے زمانے کی علامتیں نہیں ہیں بلکہ تمام مل کر ایک کامل اور ذوالوجوہ علامت بنتی ہیں۔مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ مہدی کی ایک علامت یہ ہے کہ اس کے زمانے میں امانت اُٹھ جائے گی (کنزالعمال جلد ۱۴ صفحہ ۲۲۵ روایت ۴۸۴۹۵مطبوعہ حلب ۱۹۷۵ء )یا یہ کہ اس وقت جہالت ترقی کر جائے گی۔(ابن ماجہ کتاب الفتن باب اشراط الساعۃ)اب اگر ان علامات کو مستقل علامتیں قرار دیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ جب امانت دنیا سے اُٹھ جائے ، اس وقت مہدی کو ضرور ظاہر ہو جانا چاہئے یا علم کے اُٹھ جانے پر مہدی کو ضرور ظاہر ہو جانا چاہئے حالانکہ اس تیر ہ سو( ۱۳۰۰ )سال کے عرصے میں مسلمانوں پر کئی اُتار چڑھاؤ کے زمانے آئے ہیں۔کبھی ان میں سے علم اٹھ گیا، کبھی امانت لیکن مہدی ظاہر نہیں ہوا۔پس معلوم ہوا کہ یہ علامتیں مستقل علامتیں نہیں ہیں، بلکہ وہ سب علامتیں مل کر جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خدا تعالیٰ سے خبر پاکر بیان فرمایا ہے نہ کہ بعض لوگوں نے اپنے دل سے بنا کر انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا ہے۔مہدی موعود کے زمانے کی علامتیں ہیں۔ایک ایک علامت اور زمانوں میںبھی پائی جا سکتی ہے۔مگر متعدد علامتیں مل کر مہدی کے زمانے کے سوا اور کسی زمانے میں نہیں پائی جا سکتیں۔کسی زمانے کے پہچاننے کا بھی وہی طریق ہے جو کسی ایک آدمی کے پہچاننے کا طریق ہے۔جب ہمیں کسی ایسے شخص کا پتہ کسی کودینا ہو جس کو اس نے پہلے نہیں دیکھا اور جس کا وہ واقف نہیں تو اس کا یہی طریق ہے کہ ہم اس کی شکل اور اس کے قد اور اس کے رنگ اور اس کی عادات اور اس کے کمالات اور اس کے متعلقین کے نشانات اور اس کے گھر کا نقشہ وغیرہ بتا