انوارالعلوم (جلد 7) — Page 380
۳۸۰ نے کیوں احکام الٰہی پر عمل نہیں کیا تھا تو یہ ظلم ہوگا اور اللہ تعالیٰ ظالم نہیں، پس ممکن نہیں کہ لوگ ہدایت کے محتاج ہوں لیکن وہ ان کی ہدایت کا سامان نہ کرے۔پیچھے جو مضمون گزرا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی رو سے جب کسی زمانے کے لوگ ہدایت کے محتا ج ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کا سامان پیدا کرتا رہتا ہے ، لیکن قرآن کریم سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس عام قاعدے کے علاوہ امت محمدیہ سے اس کا ایک خاص وعدہ بھی ہے وہ یہ ہے۔اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجرآیت أ۱۰) ہم نے ہی اس تعلیم کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔اب حفاظت دو قسم کی ہوتی ہے ایک تو حفاظت ظاہری اور ایک حفاظت معنوی۔جب تک دونوں قسم کی حفاظت نہ ہو کوئی چیز محفوظ نہیں کہلا سکتی،مثلاً اگر ایک پرندے کی کھال اور چونچ اور پاؤں محفوظ کر لئے جائیں اور اس میں بھُس بھر کر رکھ لیا جائے تو وہ پرندہ زمانے کے اثر سے محفوظ نہیں کہلا ئے گا۔اسی طرح اگر اس کی چونچ ٹوٹ جائے، پاؤں شکستہ ہو جائیں بال نُچ جائیں تو وہ بھی محفوظ نہیں کہلا سکتا، ایک کتاب جس کے اندر لوگوں نے اپنی طرف سے کچھ عبارتیں زائد کر دی ہوں یا اس کی بعض عبارتیں حذف کردی ہوں یا جس کی زبان مُردہ ہوگئی ہو اور کوئی اس کے سمجھنے کی قابلیت نہ رکھتا ہو، یا جو اس غرض کے پورا کرنے سے قاصر ہوگئی ہو جس کے لئے وہ نازل کی گئی تھی محفوظ نہیں کہلا سکتی، کیونکہ گو اس کے الفاظ محفوظ ہیں مگر اس کے معانی ضائع ہوگئے ہیں اور معانی ہی اصل شے ہیں۔الفاظ کی حفاظت بھی صرف معنی کی حفاظت ہی کے لئے کی جاتی ہے۔پس قرآن کریم کی حفاظت سے مراد اس کے الفاظ اور اس کے مطالب دونوں کی حفاظت ہے۔اس وعدے کے ایک حصے کو پورا کرنے کے یعنی قرآن کریم کی ظاہری حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو سامان کئے ہیں ان کا مطالعہ انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے جب تک قرآن کریم نازل نہ ہوا تھا، نہ عربی زبان مدوّن ہوئی تھی ، نہ اس کے قواعد مرتب ہوئے تھے نہ لغت بھی نہ محاورات کا حاطہ کیا گیاتھا، نہ معانی اور بیان کے قواعد کا استخراج کیا گیا تھا اور نہ تحریر کی حفاظت کا سامان ہی کچھ موجود تھا۔مگر قرآن کریم کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے مختلف لوگوں کے دلوں میں القاء کر کے ان سب علوم کو مدون کروایا اور صرف قرآن کریم ہی کی حفاظت کے خیال سے علم صرف و نحو اور علم معانی و بیان اور علم تجوید اورعلم لغت اور علم محاورہ زبان اور