انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 19

۱۹ (1) بد ظنی اس میں دوسرے سے کوئی مشارکت نہیں ہوتی اپنی ذات میں یہ خرابی ہوتی ہے۔اس کا خطرناک نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی نگاہ میں نیکی کی عظمت مٹ جاتی ہے چنانچہ کہتے ہیں جو کسی کو بد ظنی سے جھوٹا کہتا ہے اس کے اند ر ضرور جھوٹ کی مرض ہوگی۔وجہ یہ کہ جو شخص خود کسی بات کو اہم نہیں سمجھتا وہ دوسرے کے متعلق جھٹ کہہ دیتا ہے کہ یہ بھی اس طرح کرتا ہوا اور بد ظنی کا نتیجہ یہ پیدا ہوا ہے کہ الزام لگاتے لگاتے گناہوں کی عظمت اس کے دل سے جاتی رہتی ہے اور وہ خود ان میں مبتلاء ہو جاتاہے۔غرض بد ظنی ایک ذاتی گناہ ہے اس کو مٹانا چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے انسان کو گناہ میں مبتلاء جاتا ہے۔(۲) جھوٹ یہ وہ جھوٹ ہے جس میں کسی اور پر الزام نہ لگایا جائے۔جھوٹ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک یہ کہ کوئی کہے میں فلاں جگہ گیا تھا وہاں میں نے اس قسم کا درخت و یکھا تھا حالا نکہ نہ وہ گیا ہو اور نہ اس نے درخت دیکھا ہو۔اس جھوٹ کا اثر دوسروں پر نہیں پڑتا یہ اس کا ذاتی گناہ ہے کیونکہ جو اس کا ارتکاب کرتا ہے وہ حقائق اشیاء سے بے بہرہ ہو جاتا ہے اور اس کے نفس سے اچھے اور برے کا امتیاز اٹھ جاتا ہے اس لئے میں احباب کو تاکید کروں گا کہ ذاتی پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اس کو بھی ترک کر دیں۔بہت لوگ اس میں مبتلاء پائے جاتے ہیں بہت لوگ بڑے بڑے معاملات میں جھوٹ نہیں بولتے مگرایسی باتوں میں جھوٹ کی پرواہ نہیں کرتے اور کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ چھوٹا جھوٹ ہے۔جھوٹ جھوٹ ہی ہے خواہ چھوٹا ہویا بڑا اور خطرناک گناہ ہے۔چھوٹا جھوٹ بھی ایسا ہی ہے جیسے بڑا جھوٹ اور سارے جُرم جرم ہی ہیں بلکہ مثل تو یوں مشہور ہے کہ کسی نے پوچھا تھا اونٹ کی کیا قیمت ہے اور اس کے بچہ کی کیا؟ جواب ملا۔اونٹ کی چالیس اور بچے کی بیالیس کیو نکہ وہ اونٹ بھی ہے اور اونٹ کا بچہ بھی۔تو چھوٹا جھوٹ اس لئے خطرناک ہوتا ہے کہ انسان اس کے ارتکاب پر جرأت کرلیتا ہے۔پس تم لوگ آئندہ کے لئے عہد کرو کہ تمہاری زبان پر سواۓ راستی کے کچھ نہ آئے۔بعض لوگ کہتے ہیں یو نہی زبان سے یہ بات نکل گئی مگر میں یہ کہتا ہوں خواہ کوئی تمہاری جان بھی نکال دے تمہاری زبان سے ایک لفظ بھی جبراً نہیں نکلوا سکتا پھر جھوٹ کیوں کہو۔اگر کوئی بات تم نہیں بتانا چاہتے تو صاف کہدو کہ نہیں بتاتے اور سچائی اور راستی کو اپنا شعار بنالواور عمد کر لو کہ آج سے کوئی ایسا لفظ تمہاری زبان پر جاری نہ ہو جو حقیقت کے خلاف ہو۔