انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 310

۳۱۰ ہمارے بادشاہوں کو اس طرح گندہ اور ظالم کر کے دکھایا جاتا ہے تو اس کو غیرت آئے گی اور چونکہ نہ صرف عالمگیر اورنگ زیب کے زمانہ میں بلکہ سب مسلمان بادشاہوں کے زمانہ میں شروع سلطنت اسلامیہ سے ہندو مسلمان ہوتے چلے آئے ہیں اس لئے سب مسلمان بادشاہوں پر زبردستی مسلمان بنانے کا الزام لگایا گیا اور ان کو ظالم اور جابر قرار دیا گیا۔اس کے متعلق میں نے اپنے ان مبلّغوں کو جو ملکانوں میں کام کرتے تھے لکھا کہ تم ان لوگوں کو کہو کہ اگر یہ بات درست ہے کہ مسلمان بادشاہوں نے تمہارے باپ دادوں کو جبرا مسلمان بنالیا تھا جو راجپوت تھے تو پھر کیا وجہ ہے کہ باقیوں کو انہوں نے جبرا ًمسلمان نہ بنایا۔اس پر آریوں کو بہت مشکل پیش آئی اور انہوں نے یہ ڈھنگ بنایا کہ ملکانوں کو کہنے لگے ایک دفعہ مسلمان تمهارے باپ داروں کو لڑنے کے لئے لے گئے تھے اور کنویں میں تھوک کر ان کو اس کا پانی پلادیا تھا اس پر قوم نے ان لوگوں کو چھیک دیا تھا اور وہ مسلمان بن گئے۔تیسرا طریق یہ اختیار کیا گیا کہ شدھی کا مطلب مسلمانوں سے چھوت چھات کرنا بتایا گیا اس سے مسلمانوں کو غصہ آئے گا یا نہ آئے گا کہ ہم سے نفرت کرائی جاتی ہے اور تم کو ذلیل سمجھا جاتا ہے۔اگر ملکانوں کو اپنے مذہب کی تعلیم دی جاتی تو غصہ کی کوئی وجہ نہ تھی مگر اس کے بجائے مسلمانوں سے نفرت سکھائی گئی۔پانچویں یہ کہ لالچ سے شدھی کی گئی شدھ ہونے کے لئے روپیہ دیا گیا۔ہمارے پاس ایسے آدمیوں کے نام اور پتے اور ثبوت موجود ہیں ان کو شدھ ہونے کے لئے روپیہ دیئے گئے۔ایک آدمی نے بتایا کہ میں چار پانچ سو روپیہ شادی پر خرچ کر چکا ہوں اب چار سو روپیہ اور چاہئے مگر ساہو کار کہتا ہے کہ شدھ ہو جاؤ تو دو نگا۔کیا تم یہ روپیہ دے سکتے ہو ہم نے کہا کہ ہمارے پاس روپیہ نہیں ہے۔اس پر وہ روتا ہوا چلا گیا کہ اب میں مجبور ہوں مجھ پر الزام نہ لگانا کہ کیوں شدھ ہو گیا۔پھر ان لوگوں سے ہمارے آدمیوں پر مظالم کرائے گئے ایک شخص چو سیشن جج ریڈ رہیں ایک گاؤں جس کا نام "سپار‘‘ ہے اس میں رہتے تھے ان پرجھونپڑا گرا دیا اور گھسیٹتے گھسیٹتے گاؤں سے باہر نکال دیا۔اس کے متعلق مقدمہ ہوا اور ملزموں نے جھوٹ بولنے پر کمر باندھ لی۔اس پر عدالت بار بار کہتی کہ آریہ تو کہتے ہیں ہم نے ان کو شدھ گیا ہے کیا شدھ ہو کر یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔عدالت نے ان لوگوں کو مجرم قرار دیا اور سزا دی۔