انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 290

۲۹۰ بإلشویک علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ کریں گے اور اسلام کے لئے ہر ایک قسم کی قربانی کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ حقیقی کامیابی خدا کی راہ میں فنا ہونے میں ہی ہے۔چونکہ برادرم محمد امین خان صاحب کے پاس پاسپورٹ نہ تھا اس لئے وہ روسی علاقہ میں داخل ہوتے ہی روس کے پہلے ریلوے سٹیشن قبضه پر انگریزی جاسوس قرار دیئے جا کر گرفتار کئے گئے۔کپڑے اور کتابیں اور جو کچھ پاس تھاوہ ضبط کر لیا گیا اور ایک مہینہ تک آپ کو وہاں قید رکھا گیا۔اس کے بعد آپ کو عشق آباد کے قید خانہ میں تبدیل کیا گیا۔وہاں مسلم رو سی پولیس کی حراست میں آپ کو براستہ سمرقند تاشقند بھیجا گیا اور وہاں دو ماہ تک قید رکھا گیا اور بار بار آپ سے بیانات کئے گئے یہ ثابت ہو جائے کہ آپ انگریزی حکومت کے جاسوس ہیں اور جب بیانات سے کام نہ چلاتو قسم قسم کی لالچوں اور دھمکیوں سے کام لیا گیا اور فوٹو لئے گئے تا عکس محفوظ رہے اور آئندہ گرفتاری میں آسانی ہو اور اس کے بعد کوشکی سرحد افغانستان پر لیجایا گیا اور وہاں سے ہرات افغانستان کی طرف اخراج کا حکم دیا گیا مگر چونکہ یہ مجاہد گھر سے اس امر کا عزم کر کے نکلا تھا کہ میں نے اس علاقہ میں حق کی تبلیغ کرنی ہے اس نے واپس آنے کو اپنے لئے موت سمجھا اور روسی پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور بھاگ کر بخارا جا پہنچا۔دو ماہ تک آپ وہاں آزاد رہے لیکن دو ماہ کے بعد پھر انگریزی جاسوس کے شبہ میں گرفتار کئے گئے اور تین ماہ تک نہایت سخت اور دل کو ہلا دینے والے مظالم آپ پر کئے گئے اور قید میں رکھا گیا اور اس کے بعد پھر روس سے نکلنے کا حکم دیا گیا اور بخار اسے مسلم روسی پولیس کی حراست میں سرحد ایران کی طرف واپس بھیجا گیا۔اللہ تعالیٰ اس مجاہد کی ہمت میں اور اخلاص اور تقوی میں برکت دے۔چونکہ ابھی اس کی پیاس نہ بجھی تھی اس لئے پھر کا کان کے ریلوے سٹیشن سے روسی مسلم پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور پاپیا دہ بخارا پہنچا۔بخارا میں ایک ہفتہ کے بعد ان کو گرفتار کیا گیا۔اور بدستورِ سابق پھر کا کان کی طرف لایا گیا اور وہاں سے سمرقند پہنچایا گیا۔وہاں سے آپ پر چھوٹ کر بھاگے اور بخارا پہنچے اور ۱۳۔مارچ ۱۹۲۳ء کو پہلی دفعہ بخارا میں اس جماعت کے مخلصین کو جو پہلے الگ الگ تھے اور حسب میری ہدایات کے ان کو پہلے آپس میں نہیں ملایا گیا تھا ایک جگہ اکٹھا کر کے آپس میں ملایا گیا اور ایک احمدیہ انجمن بنائی گئی اور باجماعت نماز ادا کی گئی اور چندوں کا افتتاح کیا گیا وہاں کی جماعت کے دو مخلص بھائی ہمارے عزیز بھائی کے ساتھ آنے کے لئے تیار تھے لیکن