انوارالعلوم (جلد 7) — Page 256
۲۵۶ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلی علی رسوله الكريم مجاہدین علاقہ ارتداد کے ورودِ قادیان پر حضور کاخطاب ۲- جولائی کو مبلغین کا وہ وفد جو علاقہ ارتداد میں اپنا عرصہ ختم کر چکا ہے ۹ بجے کے قریب قادیان پہنچا۔قصبہ سے باہر مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول کے طلباءمعہ اساتذہ اور دیگر اصحاب بڑی تعداد میں جمع تھے جنہوں نے أهلا وسهلا کے بلند نعروں کے ساتھ وفد کا استقبال کیا۔وفد آگے آگے اور باقی سب اصحاب ان کے پیچھے قصبہ میں داخل ہوئے۔ارکان و فدسیدھے مسجد مبارک میں آئے اور وضو کر کے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے حضور پیش ہوئے۔حضور نے ہر ایک سے مصافحہ کیا اس کے بعد آنے والے اصحاب نے دو دو رکعت نماز ادا کی۔حضور نے اس موقع پر سورہ فاتحہ کی تلاوت کرکے حسب ذیل تقریر فرمائی: وہ وفد جو اس وقت کے حالات کے ماتحت پہلا وفد تھا گو اس سے بھی پہلے بعض جماعتیں مکانوں کی طرف جا چکی تھیں۔یہ وفد اس لحاظ سے پہلا تھا کہ جو پہلے وفد گیا تھا اس کے متعلق خیال تھا کہ موقع اور محل کی تحقیق کرے گا۔اس وفد کے متعلق میں نے اسی جگہ تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ جو آج ہی جانا چاہے وہ روانگی کے لئے تیار ہو جائے۔اس وقت جس قدر آدمیوں کی ضرورت تھی اس سے زیادہ نے اپنے آپ کو پیش کیا اور پیشتر اس کے کہ اس دن کی شام ہوتی ان کو ہم نے یہاں سے روانہ کردیا۔جانے والے لوگ جس نیت اور جس ارادہ سے گئے اور جس رنگ میں انہوں نے خدا کے دین کی خدمت کے لئے کام کیا اس کا بدلہ تو اللہ تعالیٰٰ ہی دے سکتا ہے اور اسی سے یہ معالمہ تعلق رکھتا ہے۔نہ تو ہم میں سے کسی کی طاقت ہے کہ ان کے اخلاص کا اندازہ لگاۓ اور نہ ہی طاقت ہے کہ اس کی قیمت ادا کر سکے کیونکہ اسلام کی قیمت سوائے اس کے جس سے اخلاص ہو کچھ نہیں ہو سکتی۔میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا حضرت مسیح ایک نہایت سفید چبوترے پر اس طرح کھڑے ہیں کہ ایک پاؤں اوپر کی سیڑھی پر ہے اور ایک نچلی پر اور آسمان کی طرف اس طرح ہاتھ