انوارالعلوم (جلد 7) — Page 221
۲۲۱ بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلی علی رسوله الكريم دشمن کی شرارت کا مقابلہ نہ کروماریں کھاؤ اورہاتھ نہ اٹھاو ۲۴ -مارچ ۱۹۲۳ء کو جو دو سرا وفد علاقہ ارتداد کی طرف روانہ ہوا اس کو رخصت کرتے ہوئے موڑ پر سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : کہتے ہیں کہ جب خد ادیتاہے تب دیتاہے چھپڑر پھاڑ کر انسان کوشش کرتا ہے مگر اس کو کچھ نہیں ملتا مگر جب اللہ تعالیٰ ٰدیتا ہے تو اپنے فضل سے چھپر چھاڑ کر دیتا ہے۔ابھی میں نے جب سورہ فاتحہ کی تلاوت کی تو میرے دل میں ڈالا گیا کہ تم ہی مستحق ہو جو کہو کہ الحمدللہ رب العلمين ۳۰ جو لوگ آج سے پہلے ہمیں کہتے تھے کہ تم جہاد کے منکر ہو وہ جہادسے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰٰ نے ہمیں جہاد کا موقع دیدیا - وہ خدا کو ناراض کر کے جہاد کرنا چاہتے تھے محروم رہے ہم خداکے لئے اس جہاد کے منکر تھے جس کے وہ قائل تھے ہمیں اللہ نے موقع دیا۔اگر لوگوں کو زبردستی مارنا اور تلوار کا استعمال کرنا اسلام میں جائز ہوتا اور اس سے خدا خوش ہوتا تو میں خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ ہمیں اپنی جان کی کچھ بھی پرواہ نہ ہوتی اور اگر سچائی کے خلاف ظالمانہ عمل خدا کو نعوذ باللہ پسند ہوتا تو ہم ضرور کرتے۔مگر ہمارے خدا کو یہ پسند نہ تھا اس لئے ہم وہ کرتے تھے۔ہاں اب ہمیں اس قسم کے جہاد کا موقع دیا گیا ہے کہ خدا کے دین کی حفاظت کی کوشش کریں اور وعظ و نصیحت سے دین پھیلائیں۔جو لوگ اس کام کے لئے جاتے ہیں اور ان کو اس خدمت کا موقع ملا ہے وہ خوش قسمت ہیں۔یہ مت سمجھو کہ تم کسی خطرے میں جاتے ہو۔یا تم پر کوئی بوجھ ڈالا گیا ہے یا تم کوئی قربانی کرتے ہو یہ اللہ ہی کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں یہ موقع دیا ہے اور ایسے مواقع خوش قسمتی سے نصیب ہوتے ہیں۔جن کے دل میں یہ خواہش ہے وہ خوش نصیب ہوتے ہیں۔ہم سے جو کام ہوتا ہے اس میں ہماری برائی نہیں یہ اللہ کا فضل ہے۔آج وہ بھی تو لوگ ہیں جن کو حکومت کی