انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 201

۲۰۱ نہیں ہوں گے جتنے ہمارے ہوں گے اور باوجود اس کے کہ ہمارے مبلّغ آنریری ہوں گے پھر بھی ہمیں بہت سے اخراجات کرنے پڑیں گے۔کیونکہ ہمیں ایک ایسا محکمہ بنانا ہو گا کہ جس کے ماتحت تبلیغ کا کام ہو سکے۔ہمارے نئے نئے آدمی جو جائیں گے ان کو نہ وہاں کے لوگوں کی طبائع کا علم ہوگا ،نہ ان سے واقفیت ہوگی، نہ وہاں کام کرنے کے رنگ اور طریق سے آگاہ ہوں گے،نہ ان سے دوستیاں ہوں گی ،نہ ان کا رعب جما ہوا ہو گا ایسی حالت میں اگر ایک جماعت مبلغین کی جائے جو تین ماہ کے بعد واپس آجائے اور پھر نئی جماعت چلی جائے تو گویا سارا سال تجربہ ہی ہوتا رہے گا اور کچھ کام بھی نہیں ہو سکے گا اس لئے ضروری ہے کہ ایک جماعت ایسی مستقل وہاں رہے جو کام کی نگرانی کرتی رہے اور جو میدان میں کام کے خاتمے تک وہیں رہے۔یہ جماعت وہاں کے حالات اور طریق تبلیغ سے واقفیت حاصل کرے لوگوں سے واقفیت پیدا کرے۔یہ جماعت جو چھ ماه۔سال یا دو سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ وہاں رہے گی اس کے متعلق یہ خیال کرنا کہ خرچ کئے بغیر رہ سکے گی اس کی طاقت اور قوت سے بالاخیال ہے اور جب خدا تعالیٰ بھی انسانی قوتوں کا خیال رکھتا ہے تو کیا بندوں کو اس قانون کا لحاظ نہیں رکھنا چاہئے جو خدا نے بنایا ہے اور جو یہ ہے کہ انسان کھانے پینے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ اس کے بیوی بچے اور دوسرے لواحقین کھانے پینے کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔یہ درست ہے کہ جو لوگ وہاں کام کریں گے وہ خدا تعالی ٰکے لئے ہی کرتے ہیں لیکن جو خدا کیلئے کام کرتے ہیں ان کو خدا تعالیٰ آسمان سے کھانا نہیں بھیجا کرتا بلکہ مومنوں کے قلوب میں ہی الہام کرتا ہے کہ ان کے کھانے پینے کا انتظام کریں۔حضرت مسیح موعود کا ایک الہام ہے۔ینصرک رجال نوحي إليهم کہ تم کو وہ لوگ مدد دیں گے جن کو ہم وحی کریں گے۔پس خدا تعالیٰ اپنے بندوں کیلئے آسمان سے روٹی نہیں اتارا کرتا۔بلکہ دوسروں کو الہام کرتا ہے کہ ان کیلئے سامان کریں اور ہماری کیاہی خوش قسمتی ہوگی اگر ہم خدا تعالیٰ کے الہام کے موردبن جائیں۔پھر کئی لوگ بعض مجبوریوں کی وجہ سے تبلیغ کیلئے نہیں جاسکتے۔خواہ ان کی مجبوریاں اچھی ہی ہوں مگر ان کے دل کو صدمہ تو ضرور پہنچتا ہے۔مثلاً میں ہی ہو- اگرچہ میں نے سارا کام کرانا ہے اور میدان جنگ میں فوج کو لڑانے والے کا یہی کام ہوا کرتا ہے کہ مقام جنگ سے پرے ہٹ کر فوج کو دیکھتا رہے تاکہ انتظام قائم رہے اور جہاں ضرورت محسوس ہو وہاں مددپہنچائے اور سوائے ایسے موقع کے جنگ میں شامل نہ ہو جب یہ سمجھے کہ اگر میں نہ پہنچا تو ساری سپاه تباہ ہو