انوارالعلوم (جلد 7) — Page 199
۱۹۹ نام ہمارے پاس نہ ہوں جنہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہو اس وقت تک ہم اطمینان سے کام نہیں کر سکتے۔ممکن ہے ہمیں سینکڑوں آدمی بھیجنے پڑیں۔ایک کے بعد دوسرا دوسرے کے بعد تیسرا وفد روانہ ہو۔کیونکہ اس وقت تک ہم نے چلنا ہے جب تک کہ دشمن تھک کر اور ہار کر نہ بیٹھ جائے۔بچپن کی ایک مثال مجھے یاد ہے گو وہ کچھ اچھی نہیں لیکن اس سے مطلب ضرور حل ہو جاتا ہے۔چھوٹی عمر میں میں اس جگہ کھڑا تھا جہاں اب لنگرخانہ ہے اور مہمان خانہ کے پاس جو لا ہوں کے جو گھر ہیں ان کے قریب سے دو آدمیوں نے کنکوّے چڑھائے وہ آپس میں لڑا رہے تھے۔وہ دونوں ڈور چھوڑتے جاتے تھے اور کنکوے بہت دور نکل گئے۔میری تو نظر بھی کمزور تھی جب میری نظر سے غائب ہو گئے تو میں نے دوسرے لڑکے سے جو میرے ساتھ تھا پو چھا اتنے دور کیوں چلے گئے ہیں۔اس نے کہایہی مقابلہ ہے جو بھی ڈور دینے میں بڑھ جائے گا وہ جیت جائے گا تو ایسا مقابلہ جو در پیش ہے اس کے لئے استقلال ہی سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔اور یاد رکھو کہ باطل کبھی مقابلہ پر نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ باطل کے معنی ہلاک ہونے والے کے ہیں۔قائم حق ہی رہتا ہے کیونکہ حق کے معنے قائم رہنے کے ہیں۔لیکن اس کے لئے استقامت ضروری ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود بھی فرمایا کرتے تھے۔الإستقامة فوق الكرامة - اگر ہم استقلال د کھائیں گے تو وہ لوگ اسی طرح تھک کر واپس آجائیں گے، جس طرح نان کو اپریشن والے تھک کر اپنے اپنے کاموں پر واپس آرہے ہیں۔وکیل اپنی وکالت شروع کر دیں گے۔پڑھانے والے اپنے سکولوں میں چلے آئیں گے۔لیکچرار گھروں کو واپس آجائیں گے اور جو جماعت میدان سے ہٹے گی نہیں وہ احمدی جماعت ہی ہو گی۔اس وقت ہمارے سامنے جو کام ہے وہ بہت بڑا کام ہے لیکن ہندوستان کیا اگر ساری دنیا سے بھی مقابلہ ہو تو بھی ہمیں کیا پرواہ ہے۔جب ہماری مدد کرنے والا خدا تعالیٰ ہے تو ہم نے خدا تعالیٰ کے سہارے پر پڑنا ہے۔لیکن یاد رکھو خدا تعالیٰ کی مدد بھی اس وقت تک نہیں آتی جب تک استقامت نہ اختیار کی جائے کیونکہ استقامت کی وجہ سے خدا کی مدد آتی ہے۔جب تک یہ رنگ ہماری جاعت دکھانے کیلئے تیار نہ ہو۔جب تک سارے کے سارے لوگ ہی فیصلہ نہ کرلیں کہ جب تک دشمن کو مقابلہ سے نہ ہٹائیں گے اس وقت تک نہ ہٹیں گے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس چاہیے کہ جس کے دل میں اب تک اس کام میں شامل ہونے کی تحریک نہ ہوئی