انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 197

۱۹۷ دوسرے نبی کا آنا۔تو ایسے مواقع شاز و نادرہی ملا کرتے ہیں ہمیشہ پس نہ اس وجہ سے ہمیں اس فتنہ کے انسداد کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ محمدﷺ کے خدام اس میں مبتلاءہوئے ہیں بلکہ اس لحاظ سے کہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والے اس میں مبتلاءہو گئے ہیں۔ہماری جماعت جو الگ ہوئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کوئی نئی جماعت ہے بلکہ یہ اس لئے الگ ہوئی ہے کہ وہ لوگ جو اسلام اور محمدﷺ سے اپنا تعلق جتاتے ہیں مگر سچا تعلق نہیں رکھتے ان سے الگ ہو جائے۔اگر یہ لوگ اپنا کوئی ایسانام رکھ لیں کہ اس کا اسلام سے تعلق نہ ظاہر ہو تو پھر ہم احمدی نہ کہلائیں تو گویا ہم اسلام سے اپنا تعلق ممتاز طور پر ظاہر کرنے کے لئے احمدی کہلاتے ہیں یا یوں کہو کہ ان کو ممتاز کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔پس یہ امتیاز کو ثابت کرنے کا موقع ہے۔احمدی ہم اس لئے کہلاتے ہیں کہ ان لوگوں سے الگ ہو جائیں تاکہ ان کی وجہ سے ہمارے مقابلہ میں کوئی اسلام پر طعن نہ کرے۔ورنہ ہمارانام تو وہی ہے کہ سچامسلم۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس موقع پر خاموش نہ رہیں۔پھر عقلاً بھی اس کے بڑے بڑے اعلیٰ نتائج ثابت ہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ لوگ ہمارے لئے خزانہ اور کان کے طور پر ہیں جس پردشمن قابو پانا چاہتا ہے کبھی کوئی یہ پسند نہ کرے گا کہ اس کی کسی چیز پر اگر دشمن نے قبضہ کیا ہو تو اسے چور چرا کر لے جائیں کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ میری چیزہے اور میرے پاس اسے آنا چاہئے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسی رنگ کا ایک فیصلہ کیا تھا۔ان کے پاس دو عورتیں مقدمہ لائیں۔ان میں سے ایک کے بیٹے کو بھیڑیا کھاگیا تھا اس کا خاوند کہیں گیا ہوا تھا اور بعد میں ہی اسے بچہ پیدا ہوا تھا اس نے سمجھا خاوند آکرنا راض ہو گا اور چونکہ وہ اپنے بچے کو پہچانتا نہیں اس لئے دوسرے بچے کو ہی اپناسمجھ لے گا اس پر اس نے دوسری عورت کا بچہ اٹھا کر اپنا بنالیا۔یہ جھگڑا جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس گیا تو انہوں نے کہا اچھا اس کا فیصلہ اس طرح کرتاہوں کہ بچے کوآدھا آدھاکر کے دونوں کو دے دیتا ہوں۔جس ماں کا بچہ نہیں تھا اس نے تو کہا ہاں یہ ٹھیک انصاف ہے ایسا ہی ہونا چاہئے۔اس نے سمجھا میرابیٹاتو مرہی گیا ہے مگر اس کا بھی تو زندہ نہ رہے گا۔لیکن جس کا بچہ تھا اس نے کہہ دیا کہ یہ میرا بیٹاہی نہیں اسی کا ہے اسے دے دیا جائے اور اس طرح اس نے بچہ کو مرنے سے بچالیا۔تو مسلمان کہلانے والے گو خراب ہیں لیکن ہمارے لئے دوسروں سے بات اقرب خزانہ