انوارالعلوم (جلد 7) — Page 194
۱۹۴ محروم رہ جاتے ہیں۔پس اگر ہماری جماعت بھی کامیاب ہونا چاہتی ہے اگر ہماری جماعت بھی ان پیشگوئیوں کی حامل بننا چاہتی ہے جو حضرت مسیح موعود سے تعلق رکھتی ہیں تو اس کی یہی صورت ہے کہ ہم پہلی صدیوں میں دنیا پر چھا جائیں اور ہمارے کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسی کان اور ایساذ خیرہ ہو جسے ہم اپنے اندر شامل کر سکیں اگر ایسا نہ ہو تو ہم کامیاب نہیں ہوسکتے۔اگر عقل و فکر سے کام لیکر اس پر غور کیا جائے تو سمجھ میں آجائے گا کہ تین صدیوں میں ہی ہم کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور اگر ہم لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو انہی لوگوں کو جو اس وقت ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔پس ہماری کامیابی کی جڑ اور راز یہی مسلمانوں کی حالت ہے جو ہمارے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ یہی سب سے زیادہ ہماری ترقی میں ممّد اور معاون ہے اور ان کو جانے دینے کا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ آسانی اور سہولت سے ہمارے ہاتھ میں آسکتے ہیں ان میں سے چار پانچ لاکھ کو ہم جانے دے رہے ہیں اور یہ اتنی ہی تعداد نہیں ہے۔اب تو آریہ بھی ان کی تعداد ۳۳۔۳۲ لاکھ مان رہے ہیں۔شرد ھانند نے اپنی ایک تقریر میں اتنی تعداد تسلیم کی ہے اور یہ آہستہ آہستہ ان لوگوں کی تعداد ظاہر کرتے ہیں تاکہ مسلمان زیادہ نہ گھبرا جائیں۔اور واقف کار ان لوگوں کی تعداد ایک کروڑ بتاتے ہیں۔اتنی بڑی تعداد جو افغانستان کی ساری آبادی سے دوگنی ہے اس کو ضائع ہونے دینا قطعاً ہوشیاری اور دانائی کے خلاف ہے۔پھر حضرت مسیح موعود کا طریق ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر آپ یہ نہ کہتے کہ یہ ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں انہیں تباہ ہونے وو۔وہ لوگ بھی ہم سے دشمنی اور عداوت کریں ہمیں دکھ اور تکالیف دیں مگر یہ بھی تو یاد رکھو کہ اوروں کی نسبت یہی لوگ آسانی سے ہمارے قابو میں آسکتے ہیں۔ہماری اصل غرض یہی ہے کہ جس کام کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ ہو جائے اور یہ لوگ چونکہ اس کام کے ہونے میں سب سے زیادہ ممدّ ہیں اس لئے ان کا بچانا ہمارا فرض ہے۔کتاب جنگ مقدس جس میں آتھم کے ساتھ مبا حثہ چھپاہے یہ حضرت مسیح موعود ؑکا مباحثہ اس وقت ہوا جبکہ آپ نے مسیح موعود ہونے کا اعلان کردیا تھا اور مولوی آپ کے کافر ہونے کا اعلان کر چکے تھے اور فتوے دے چکے تھے کہ آپ واجب القتل ہیں۔وہ امن جواب جماعت کو حاصل ہے اس وقت ایسا بھی نہ تھا بلکہ اب مجھے ان مقامات پر جہاں تھوڑے احمدی ہیں اور ان کا جو حال ہے ایسا ساری جماعت کا حال تھا اور ہر جگہ یہی حالت تھی۔ایسے موقع پر ایک غیر