انوارالعلوم (جلد 7) — Page 189
۱۸۹ ایسے موقع پر قرآن کریم کہتا ہے کہ جوش ہو تو ہٹ جاؤ فساد کی راہوں سے بچو۔ہم لوگ جو یہاں ہیں تمہارے لئے دعا کرتے ہیں اور کریں گے اور دوسرے لوگ تیار ہیں جو جلد تمهارے پاس آئیں گے۔جو لوگ جاتے ہیں ان کے لئے دعا کی ضرورت ہے۔جو لوگ یہاں ہیں ان کے دل میں جوش ہونا چاہئے کہ ہم بھی جائیں اور خد مت اسلام کریں۔سب لوگ دعا کرو کہ جانے والوں کی زبانوں میں تاثیر ہو۔بڑے بڑے لیکچر فضول ہوتے ہیں اگر ان میں اثر نہ ہو۔جانے والے دعا کے مستحق ہیں ہمیں ان کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ یہ خدمت کر سکیں۔اور اپنے نفسوں کی اصلاح کرو اور اپنے آپ کو تیار کرو کہ جس طرح یہ خد مت دین کے لئے جاتے ہیں تم بھی جاؤ – اسلام کی حالت کو دیکھو اور غور کرو کہ اسلام پر کیساوقت ہے اسلام سے ایسی محبت کرو جو ماں کو بچے سے بھی نہیں ہوتی۔اس کے لئے ہر ایک قسم کے خطرات برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔بچپن میں میں نے ایک قصہ پڑھا تھا کہ ایک عورت کے بچے کو ایک جانور اٹھا کر لے گا۔وہ عورت اس کے پیچھے پیچھے گئی اور ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئی لیکن جب بچہ لے کر اس کو اطمینان ہوا تو وہ اتر نہ سکتی تھی۔بڑی مشکل سے لوگوں نے اتاری۔یہ ماں کی محبت ہی تھی جو اسے چوٹی پر لے گئی۔کیا اسلام کی اتنی بھی قد ر تمہارے دلوں میں نہیں ہونی چاہئے جو ماں کو بچے سے ہوتی ہے۔اسلام خطرات میں گھرا ہوا ہے اس لئے تم سستیوں کو چھوڑ دو اور خدمتِ اسلام کے لئے تیار ہو جاؤ- خواہ کو ئی کیسی عزیز ہو مگر خدمت ِاسلام سے تمہارے لئے روک نہ ہو۔تمهارا عزم یہ ہو نا چاہئے کہ ہم کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کریں گے اور تمام روکوں کے پردے چاک کرکے جائیں گے اور اسلام کی خدمت بجالائیں گے۔مگر یہ نہیں ہو سکتا جب تک اخلاص نہ ہو۔(الفضل ۱۹- مارچ ۱۹۲۳ء)