انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 170

۱۷۰ ہے۔اس علاقہ میں ایک قوم جو ساڑھے چار لاکھ کے قریب ہے اس میں آہستہ آہستہ آریوں نے ارتداد کے پھیلانے کی کوشش شروع کی ہوئی تھی اور اب حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ قریب ہے وہ تمام کی تمام قوم آریہ ہو جائے۔وہ لوگ ہندو نہیں کہلاتے بلکہ ملکانے کہلاتے ہیں اور ان میں بعض رسوم مسلمانوں کی پائی جاتی ہیں۔مثلاً وہ مسلمان مولویوں سے نکاح پڑھواتے ہیں مگر پنڈتوں سے بھی نکاح پڑھوا لیتے ہیں۔ان میں سے بعض ختنہ کراتے ہیں اور بعض نہیں کراتے۔بعض مردوں کو دفن کرتے ہیں اور بعض جلاتے ہیں۔کھانے پینے میں مسلمانوں سے چھوت چھات رکھتے ہیں۔سروں پر بودی رکھتے ہیں۔ان لوگوں کی حالت چونکہ معلوم نہ تھی اس لئے میں نے ۱۴ و ۹۱۵ء میں ان کا حال معلوم کرنے کے لئے یہاں سے دو تین آدمیوں کو بھیجاتھا۔عبد الصمد صاحب پٹیالے والے کو اور فلاسفرصاحب کو اور غالباً اسی علاقے میں بدرالدین صاحب کو جواب لنگر میں کام کرتے ہیں مگر ان لوگوں نے ایسی کم ہمتی دکھائی کہ یونہی چند وورے کر کے واپس آگئے اور صحیح حالات کا پتہ لگا کر نہ لائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اس طرف سے خاموش ہو کر بیٹھ رہے اور دوسرے لوگوں کو تو اس کی فکر ہی نہ تھی مگر آریوں نے آہستہ آہستہ کوشش جاری رکھی اوراب یہ حالت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ سارے لوگ آریہ ہونے والے ہیں اور آج ہی وہاں سے جو آدمی ہو کر آیا ہے وہ بتاتا ہے کہ ان کی ایسی حالت ہو گئی ہے کہ ایک گاؤں میں کچھ لوگ انہیں سمجھانے کے لئے جانے لگے تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ اگر کوئی یہاں آیا تو ہم اسے قتل کردیں گے۔ایسے موقع پر غیر احمدیوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ کچھ کرنے کی کوشش کریں گے فضول ہے۔چنانچہ آنے والے آدمی نے بتایا ہے کہ جب ان لوگوں نے قتل کی دهمکی دی تو غیراحمدی جو روانہ ہوئے تھے واپس آگئے حالانکہ میں سمجھتاہوں قتل ہی ایسے علاقے میں تبلیغ اسلام کے لئے نتیجہ خیز ہو سکتا ہے اور ضروری ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر ایک دو تین آدمی قتل ہوجائیں تو اس ساری قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے بچا سکتے ہیں۔اول تو یہ بات ہی باطل ہوتی ہے کہ وہ لوگ تبلیغ کرنے والوں کو قتل کردیں گے لیکن اگر ایک کو قتل کریں تو دوسرا اس کی جگہ چلا جائے اور دوسرے کو قتل کردیں تو تیسرا روانہ ہو جائے تو وہ لوگ ضرور ارتدادسے بچ جائیں گے کیونکہ اس طرح ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم کوئی ایسی قیمتی چیز کھونے لگے ہیں جس کے لئے یہ لوگ جانیں دینے کے لئے تیار ہیں او ر دے رہے ہیں۔