انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 149

۱۴۹ ایک شاخ اور بھی ہے جو تعمیر کے علاوہ ہے اور اس میں دیگر آثارقدیمہ سے پتہ لگایا جاتا ہے۔(۳۳) تینتیسواں علم، علم التمدّن ہے جو نہایت اہم علم ہے۔اس میں کئی علوم سے بحث ہوتی ہے۔(۱)رعایا کے حقوق حکومت پر کیا ہیں۔یعنی کونسی با تیں جو رعایا بادشاہ سے طلب کرے۔(۲)۔حقوق على الرعایا۔یعنی رعایا کو کونسی باتیں ماننی ضروری ہیں اور حکومت کے رعایا پر کیا کیا حقوق ہیں۔۳- حقوق الاخوان على الاخوان یعنی انسان کے انسان پر۔بھائی کے بھائی پر کیا حقوق ہیں۔۴- حقوق الوالدين على الاولاد یعنی ماں باپ کے حقوق اولاد پر کیا ہیں۔مثلاً اس میں یہ بھی بحث کریں گے کہ باپ بچہ کو مارے یا نہ مارے اور مارے تو کس حد تک۔غرض والدین کو أولاد کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ کرنا چاہئے اور اولاد کو کیا طریق اختیار کرنا ضروری ہے۔۵۔حقوق الرجال على النساء- مردکے عورتوں پر کیا حقوق ہیں۔۔آئندہ نسل کی بہتری کس طرح ہو سکتی ہے۔اس میں یہ بھی داخل ہے کہ عمدہ اخلاق والی اور مضبوط اولاد کس طرح پر ہو۔۔مالک اور مزدور کے کیا حقوق ایک دوسرے پر ہیں۔مزدور کس حد تک آزاد ہے اور کس حد تک پابند اور نوکر کامالک کے مال میں کس حد تک حصہ ہے۔یہ بڑی بحث ہے اور سرمایہ داروں اور نوکروں کے تعلّقات اور حقوق کا علم اس وقت بہت وسیع ہوگیا ہے اوران حقوق کی حفاظت نہ کرنے یا ان کے نہ سمجھنے کے سبب سے بڑے بڑے فتنے اور فساد کھڑے ہو جاتے ہیں۔مزدوروں کی جماعت کو لیبر پارٹی کہتے ہیں آج کل بڑے زوروں پر ہے علم سیاست (۳۴) چونتیسواں علم سیاست ہے۔اس کی بہت شاخیں ہیں۔بڑی بڑی یہ ہیں۔۱۔حکومت اور ملازمین۔حکومت کا اپنے ملازمین پر کیا حق ہے اور کہاں تک اختیار ہے۔ملازمین کے کیا حقوق ہیں۔