انوارالعلوم (جلد 7) — Page 145
۱۴۵ تاریخ کا سیاسی تاریخ سے بالکل الگ ہے۔سیاسی میں انتظامی امور پر بحث ہوتی ہے جنگی میں اس قسم کی شجاعت ،بزدلی اور فنون جنگ سے واقفیت یا عدم واقفیت اور جنگی ضروریات میں ایجادات اور سامان حرب کی حیثیتوں پر بحث ہوگی۔پھر اس تاریخ کے علم کے ساتھ بعض اور علوم بھی تعلق رکھتے ہیں۔وہ گویا علم التواریخ کی شاخیں ہیں۔چنانچہ دوسرا علم اس کا جو تاریخ سے تعلق رکھتا ہے وہ فلسفہ تاریخ ہے۔اس کے معنے پہ ہیں کہ کوئی تاریخ جو لکھی جائے اس میں کیا قوانین مدّنظر ہوں۔یا تاریخ کے کیا فوائد ہیں۔تاریخ نویسی کے کیا اصول ہیں اور مورخ کو کن باتوں کو مدّ نظر رکھنا چاہئے۔ایسا ہی تاریخ کے فن کی تدریجی ترقیوں اور حالات پر بحث ہوگی۔تیسرا علم جو اس کی شاخ ہے وہ ذرائع تاریخ ہے اس میں یہ باتیں بھی داخل ہوتی ہیں کہ کسی ملک یا قوم کی صنعتوں اور روایات سے پتہ لگاتے ہیں۔ایسا ہی اس قوم کے مذہب اور عقائد اور رسوبات سے بھی پتہ لگاتے ہیں۔غرض مؤرخ مختلف ذرائع اور اسباب سے تاریخ کا پتہ لگاتے ہیں۔(۲۵) پچیسواں علم جغرافیہ ہے جغرافیہ کا علم زمانہ کے موجودہ نقشہ پر بحث کرتا ہے کہاں دریا ہیں کہاں پہاڑہیں۔جغرافیہ کی پانچ قسمیں ہیں ایک مدنی ہوتی ہے جس میں شہروں کی نسبت بیان ہوتا ہے ایک سیاسی جغرافیہ ہے اس میں اس بات پر بحث ہوگی کہ کسی پہاڑ دریا یا شہر کی سیاسی حیثیت کیا ہے۔اردگرد کے شہروں پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے اس سیاسی جغرافیہ میں اس امر پر بھی بحث ہوتی ہے کہ کس ملک پر کس قوم کا قبضہ ہے اور کس حد تک سیاسی حالات اس کے موافق ہیں یا مخالف ہیں۔ایک تجارتی جغرافیہ ہوتا ہے۔اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کس ملک میں کیا کیا چیزیں ہوتی ہیں اور ان چیزوں کا نکاس کس طرح ہوتا ہے اور وہاں دوسرے ممالک سے کیا کیا چیزیں آتی ہیں اور کہاں کہاں سے آتی ہیں جیسے مثلا ًہندوستان میں گیہوں اور روئی ہوتی ہے اور یہ گیہوں اور روئی یورپ، امریکہ اور دوسرے ممالک میں جاتی ہے۔ایک قسم جغرافیہ کی طبی یا فضائی جغرافیہ ہے۔اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ بارش کیا چیز ہے شبنم کیوں کربنتی ہے اولے اور برف کس طرح بنتے ہیں۔ایک قسم جغرافیہ کی نقشہ کا علم ہے۔اس میں دنیا کے نقشے بنانا داخل ہے۔