انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 582

۵۸۲ بارھویں دلیل آپ ؐکی قوت احیاء بارھویں دلیل کے طور پر میں حضرت اقدسؑ کی قوت احیاء کو پیش کرتا ہوں اور یہ دلیل بھی ماسبق دلائل کی طرح ہزاروں دلائل کا مجموعہ ہے اس وقت مسلمانوں کا مسیحیوں کی طرح یہ خیال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جسمانی مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے مگر جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں یہ خیال قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے شرک ہے اور ایمان کو ضائع کرنیوالا ہے مگر اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ حضرت مسیح باقی انبیاء کی طرح ضرور مردے زندہ کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کا کلام اس پر گواہ ہے اور اس کا منکر اللہ تعالیٰ کے کلام کا منکر ہے یہ مردے روحانی مردے ہوتے تھے اور درحقیقت انہیں مردوں کے احیاء کے لیے انبیاء آیا کرتے ہیں اور کوئی نبی نہیں گزرا جس نے اس قسم کے مردے زندہ نہ کئے ہوں- آدم سے لے کر آنحضرت ﷺتک کل انبیاء اسی غرض کے لیے معبوث کئے گئے تھے کہ مردوں کو زندہ کریں اور اولوالعزم انبیاء کی صداقت پرکھنے کا ایک معیار یہ بھی ہے کہ ان کے ہاتھوں سے مردے زندہ ہوں اور اگر یہ معجزہ نہ دکھا سکے تو اس کا دعویٰ نبوت ضرور مشکوک ہو جاتا ہے اور جو شخص اس قسم کے مردے زندہ کر کے دکھادے وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہے کیونکہ یہ احیاء بغیر اذن اللہ کے نہیں ہو سکتا اور جسے اذن اللہ حاصل ہو گیا اس کے سچے ہونے میں کیا شک رہا- اے بادشاہ! یہ نشان حضرت اقدسؑ ؑکے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰٰ نے اس کثرت سے ظاہر کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اور کسی نبی کی تاریخ اور اس کے حالات سے اس وضاحت کے ساتھ اس نشان کے ظہور کا پتہ نہیں چلتا` واللہ اعلم بالصواب- حضرت اقدسؑؑ اس وقت دنیا میں تشریف لائے تھے جس وقت نہ صرف روحانی موت ہی دنیا پر طاری تھی بلکہ مرے ہوئے لوگوں کو اس قدر عرصہ ہو گیا تھا کہ جسم گل سڑ گئے تھے اور افتراق شروع ہو گیا تھا` یہ ایسی سخت موت تھی کہ اس موت کی حسرتناک حالت سے تمام انبیاء علیہم السلام لوگوں کو